بھارت کے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ کی Special Intensive Revision یعنی SIR کے عمل کو لے کر سیاسی بحث ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے۔ یہ بحث اس رپورٹ کے بعد شروع ہوئی جس میں کہا گیا کہ 2 الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔
رپورٹ کے مطابق ان 14 اعتراضات میں سے 4 ایک ہی دن درج کیے گئے تھے۔ ان اعتراضات کا تعلق نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے اور دوبارہ شامل کرنے، Form 6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا اور انتخابی ٹیکنالوجی کے انتظام سے تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے بعض ایسے فیصلوں اور احکامات پر سوال اٹھایا جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ضروری معلومات یا منظوری حاصل نہیں تھی۔ اس رپورٹ کے بعد الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں نے کئی سوال اٹھائے ہیں۔
ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا رکن ڈیرک او برائن نے بدھ کے روز راجیہ سبھا میں پہلے دیے گئے اس نوٹس کو سامنے لانے کا مطالبہ کیا جس پر 60 سے زیادہ اپوزیشن ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی شروع کرنے کے لیے دستخط کیے تھے۔
ڈیرک او برائن نے کہا کہ اپوزیشن ارکان پہلے ہی راجیہ سبھا کے چیئرمین کو اس سلسلے میں خط دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2 الیکشن کمشنروں کی جانب سے متعدد اعتراضات درج کیے جانے کی رپورٹ کے بعد اس معاملے کو ایوان میں لایا جانا چاہیے۔ یہ ڈیرک او برائن اور اپوزیشن کی سیاسی مانگ ہے، اسے الیکشن کمیشن کے بارے میں حتمی ثابت شدہ نتیجہ نہیں سمجھا جاسکتا۔SIR پر اصل تنازع کیا ہے؟
SIR ووٹر لسٹ کی جانچ اور اس میں ضروری تبدیلیوں سے متعلق عمل ہے۔ اس میں ووٹروں کے نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور بعض معاملات میں نام دوبارہ شامل کرنے کا عمل شامل ہوتا ہے۔
موجودہ تنازع میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلیوں سے متعلق فیصلے کس طریقے سے کیے گئے اور ان فیصلوں کے دوران الیکشن کمیشن کے اندر کیا بحث ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق 2 الیکشن کمشنروں نے Form 6، ووٹر ڈیٹا اور انتخابی ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف معاملات پر سوالات اٹھائے تھے۔
نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے Form 6 میں SIR سے متعلق ایک اضافی سوال شامل کیے جانے کا بھی ذکر رپورٹ میں ہے۔ دونوں کمشنروں نے مبینہ طور پر اس تبدیلی کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا تھا۔ ووٹر ڈیٹا اور انتخابی نظام کو مرکزی سطح پر منظم کرنے سے متعلق خدشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کیا وضاحت دی؟
الیکشن کمیشن نے ان رپورٹوں کے بعد واضح کیا کہ SIR سمیت اس کے تمام فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے کیے گئے۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی منظوری سے فیصلے کیے گئے اور حتمی فیصلوں میں اتفاق رائے تھا۔
الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ کسی معاملے پر اندرونی طور پر سوال اٹھانا یا کسی فیصلے کے بارے میں وضاحت طلب کرنا الگ بات ہے، جبکہ حتمی فیصلہ کس طرح لیا گیا یہ الگ معاملہ ہے۔ کمیشن کے مطابق SIR سے متعلق حتمی فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے کیے گئے تھے۔
اپوزیشن کا ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے رپورٹ میں سامنے آنے والے اعتراضات کو بنیاد بناتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ دوبارہ اٹھایا ہے۔ ڈیرک او برائن نے خاص طور پر 60 سے زیادہ راجیہ سبھا ارکان کی جانب سے پہلے دیے گئے نوٹس کو ایوان میں لانے کی بات کہی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ جن فیصلوں پر اعتراضات درج ہوئے، ان کی مکمل تفصیل اور ان کے پیچھے اختیار اور طریقہ کار کو واضح کیا جانا چاہیے۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے اس تشریح کو قبول نہیں کیا کہ ان اعتراضات سے حتمی فیصلوں میں اختلاف ثابت ہوتا ہے۔
معاملہ اہم کیوں ہے؟
ووٹر لسٹ میں نام کا شامل ہونا یا حذف ہونا براہ راست انتخابی عمل سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے دوران اختیار کیے جانے والے طریقہ کار اور فیصلوں کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے۔
موجودہ معاملے میں ایک طرف 2 الیکشن کمشنروں کی جانب سے 10 ماہ میں 14 اعتراضات درج کیے جانے کی رپورٹ ہے، جبکہ دوسری طرف الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR سمیت اس کے تمام حتمی فیصلے تینوں ارکان کی منظوری سے اتفاق رائے کے ساتھ کیے گئے۔ اپوزیشن ان اعتراضات کی بنیاد پر مزید کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ کمیشن اپنے فیصلوں کو متفقہ قرار دے رہا ہے۔
اس معاملے کی مزید وضاحت متعلقہ سرکاری دستاویزات، درج کیے گئے اعتراضات اور راجیہ سبھا میں ہونے والی ممکنہ کارروائی سے ہوسکتی ہے۔






.jpg)
.jpg)






.webp)
