دوران وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے منگل کو اقلیتی ووٹروں کے حوالے سے ایک اہم بیان دیا۔ نندی گرام سے بی جے پی امیدوار حسیرانی رتھ کے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے بعد منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نندی گرام اور ریجی نگر کے اقلیتی ووٹروں سے حکومت کے ساتھ رہنے کی اپیل کی۔
شوبھندو ادھیکاری نے اپنے خطاب میں کہا کہ نندی گرام اور ریجی نگر کے اقلیتی ووٹروں کے سامنے 6 اکتوبر کو ایک موقع ہوگا۔ انہوں نے اس انتخاب کو اقلیتی ووٹروں کے لیے ایک “امتحان” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ حکومت اور وزیر اعلیٰ کے ساتھ ہیں یا نہیں اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس امتحان میں کامیاب ہونا ہے یا ناکام، اس کا فیصلہ ووٹروں پر ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں اسمبلی نشستوں پر ضمنی انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں۔ نندی گرام اور ریجی نگر میں 6 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 9 اکتوبر کو کی جائے گی۔ نندی گرام کی نشست شوبھندو ادھیکاری کے نشست چھوڑنے کے بعد خالی ہوئی ہے۔ انہوں نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں نندی گرام اور بھوانی پور دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں بھوانی پور نشست برقرار رکھتے ہوئے نندی گرام نشست چھوڑ دی تھی۔
بی جے پی نے نندی گرام سے حسیرانی رتھ کو امیدوار بنایا ہے۔ حسیرانی رتھ آنجہانی چندرناتھ رتھ کی والدہ ہیں، جو شوبھندو ادھیکاری کے سابق ذاتی معاون تھے۔ چندرناتھ رتھ کو مئی میں قتل کردیا گیا تھا اور اس معاملے کی تحقیقات بعد میں مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کیے جانے کی اطلاع ہے۔
ریجی نگر سے بی جے پی نے شخاراو سرکار کو امیدوار بنایا ہے۔ دونوں نشستوں پر اقلیتی ووٹروں کی قابل ذکر تعداد ہے، جس کی وجہ سے ضمنی انتخابات کی سیاسی مہم میں اقلیتی ووٹر ایک اہم موضوع بن گئے ہیں۔ شوبھندو ادھیکاری کی جانب سے ان ووٹروں سے براہ راست اپیل بھی انتخابی مہم کا ایک نمایاں حصہ بن گئی ہے۔
اپنے خطاب کے دوران شوبھندو ادھیکاری نے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ترقیاتی اور فلاحی کاموں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے نندی گرام کے لوگوں کو یقین دلایا کہ حلقے کے لوگوں سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے حکومت کی مدت کے دوران ترقیاتی اور فلاحی کاموں کو آگے بڑھانے کی بات بھی کہ
ادھیکاری کے بیان پر ترنمول کانگریس کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ پارٹی کے ترجمان کنال گھوش نے کہا کہ انتخابات کو اکثریت اور اقلیت کے سوال کے بجائے ترقی کے موضوع پر دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق معاشرے کے تمام طبقات کی حمایت ترقیاتی اقدامات کی بنیاد پر حاصل کی جانی چاہیے۔
نندی گرام اور ریجی نگر دونوں نشستوں پر کئی سیاسی جماعتوں کے امیدوار میدان میں ہیں۔ نندی گرام میں بی جے پی کے علاوہ ترنمول کانگریس کے مختلف دھڑوں، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے امیدوار بھی انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ریجی نگر میں بھی متعدد سیاسی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہے۔
نندی گرام مغربی بنگال کی سیاست میں طویل عرصے سے ایک اہم اسمبلی حلقہ رہا ہے۔ زمین کے حصول کے خلاف تحریک کے دوران یہ علاقہ ریاست کی سیاست میں نمایاں طور پر سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد بھی نندی گرام مختلف انتخابات میں اہم سیاسی مقابلوں کا مرکز رہا ہے۔ آنے والے ضمنی انتخاب میں بھی مقامی مسائل، ترقیاتی کام اور مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
شوبھندو ادھیکاری کے بیان کے بعد اقلیتی ووٹروں کا معاملہ نندی گرام اور ریجی نگر کے ضمنی انتخابات سے متعلق سیاسی بحث میں مزید نمایاں ہوگیا ہے۔ دونوں نشستوں پر 6 اکتوبر کو ووٹنگ ہوگی اور نتائج 9 اکتوبر کو جاری کیے جائیں گے۔






.jpg)
.jpg)







.webp)
