تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
کیجریوال کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ


ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی SIR کے معاملے پر سیاسی تنازع میں مزید شدت آ گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

کیجریوال نے یہ مطالبہ ایک ایسی رپورٹ کے بعد کیا جس میں الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور کارروائیوں پر اعتراضات درج کیے جانے کا ذکر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اعتراضات ووٹر لسٹ، ووٹر ڈیٹا اور SIR سے متعلق مختلف معاملات پر تھے۔ 

ایک پریس کانفرنس میں کیجریوال نے الزام لگایا کہ کچھ احکامات الیکشن کمیشن کی مکمل منظوری کے بغیر جاری کیے گئے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کے تین رکنی نظام اور فیصلے لینے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے۔

کیجریوال نے مطالبہ کیا کہ SIR کے تحت کی گئی تبدیلیوں کو منسوخ کیا جائے اور پہلے کی ووٹر لسٹ بحال کی جائے۔ انہوں نے دہلی، مہاراشٹر، بہار، مغربی بنگال، ہریانہ اور مدھیہ پردیش میں گزشتہ برسوں کے دوران ہوئے انتخابات کو منسوخ کرکے دوبارہ کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ کیجریوال کی جانب سے کیے گئے سیاسی مطالبات ہیں، جبکہ انتخابات کو منسوخ یا دوبارہ کرانے کا فیصلہ متعلقہ قانونی اور آئینی عمل کے تحت ہی ہو سکتا ہے۔

اس تنازع کے دوران سامنے آنے والی رپورٹ میں الیکشن کمشنروں کی مبینہ شکایات اور اعتراضات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان معاملات میں Form 6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا اور سافٹ ویئر کو مرکزی سطح پر رکھنے، مغربی بنگال میں ووٹر کے نام حذف کیے جانے سے متعلق اپیلوں اور گوا میں اہل ووٹروں کے نام شامل کرنے جیسے معاملات شامل تھے۔ 

رپورٹ میں Form 6 اور SIR سے متعلق تبدیلیوں پر بھی سوالات کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر وویک جوشی نے بعض تبدیلیوں کے طریقہ کار پر اعتراض کیا، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی کچھ اقدامات پر اعتراض درج کیا تھا۔

تاہم الیکشن کمیشن نے اندرونی اختلافات سے متعلق اس تاثر کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق SIR سمیت تمام فیصلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ تین رکنی الیکشن کمیشن میں ہر کمشنر کو اپنی رائے رکھنے اور سوال اٹھانے کا حق ہے اور اختلاف کی صورت میں مقررہ اکثریتی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ 

اس پورے معاملے نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار، ووٹر لسٹ میں تبدیلی اور SIR کے عمل کو لے کر سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے شفافیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR سمیت تمام فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے کیے گئے ہیں۔
 

News Image

الیکشن کمیشن میں 14 اعتراضات، اکھلیش یادو نے سوال اٹھائے

  • دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے جانے کی رپورٹ کے بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعتراضات کا تعلق ووٹر لسٹ، نئے ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے، نام بحال کرنے، Form 6 اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ SIR سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے اتفاق رائے کے ساتھ کیے گئے۔
BY SHIRIN ·