تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
ایس آئی آر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج


ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے معاملے پر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج جمعہ کو مزید تیز ہو گیا۔ یہ تنازع اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے 10 ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کے نام سے لیے گئے بعض فیصلوں اور جاری کیے گئے احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات کا تعلق ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے، نام حذف کرنے، ووٹرز کی اپیلوں اور انتخابی اعداد و شمار سے متعلق نظام جیسے معاملات سے تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایک ہی دن میں چار اعتراضات درج کیے گئے تھے۔ 

رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ایس آئی آر کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس نے 25 ستمبر کو ملک بھر میں ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے دور میں لیے گئے فیصلوں اور ووٹر لسٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ 

دہلی میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔ انڈین یوتھ کانگریس کی جانب سے بھی احتجاجی مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ کانگریس نے احتجاج کے اگلے مرحلے کے طور پر 28 ستمبر کو ضلعی سطح پر بھی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

اس تنازع کے مرکز میں موجود رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کئی معاملات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے۔ ان میں نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے، ووٹر لسٹ سے نام حذف یا دوبارہ شامل کرنے، ووٹرز سے متعلق فیصلوں کے خلاف اپیلوں اور ووٹر ڈیٹا سے متعلق نظام تک رسائی جیسے معاملات شامل تھے۔ 

تاہم الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کو حتمی فیصلوں پر اختلاف قرار دینے کی تشریح کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کے حکام کے مطابق ایس آئی آر سمیت تمام فیصلوں کو تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری حاصل تھی اور حتمی فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ اندرونی غور و خوض کے دوران کسی معاملے پر سوال یا تشویش ظاہر ہونا لازمی طور پر حتمی فیصلے سے اختلاف نہیں ہوتا۔ 

ایس آئی آر کے طریقہ کار کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے کنوینر ابھجیت دیپکے نے ایس آئی آر کی آزادانہ تحقیقات، سابقہ ووٹر لسٹ کو بحال کرنے اور چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

ابھجیت دیپکے نے مزید احتجاج کی بات بھی کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ نہیں دیتے تو دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے 2 اکتوبر سے ملک گیر تحریک شروع کرنے کی بات بھی کہی ہے۔ یہ ان کے اور ان کی تنظیم کے مطالبات اور سیاسی بیانات ہیں۔

مرکزی وزیر چراغ پاسوان نے اس تنازع پر کہا کہ الیکشن کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہے اور اگر اس کے کام کاج پر سوال اٹھائے گئے ہیں تو کمیشن اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر کو اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو اپوزیشن کو مطمئن کرنے کے بجائے عوام کا اعتماد برقرار رکھنے پر توجہ دینی چاہیے۔

چھتیس گڑھ کانگریس کے صدر دیپک بائج نے بھی ایس آئی آر کے معاملے پر الیکشن کمیشن کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام فہرست سے حذف کیے گئے۔ یہ الزامات کانگریس کے ایک رہنما کی جانب سے لگائے گئے ہیں اور انہیں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

مغربی بنگال میں بھی ایس آئی آر سے متعلق اپیلوں کے تصفیے کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے متعلق بڑی تعداد میں اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 38.20 لاکھ اپیلوں میں سے تقریباً 1.02 لاکھ معاملات کا ہی تصفیہ ہو سکا تھا۔ 

ایس آئی آر کا معاملہ عدالتی جانچ کے دائرے میں بھی آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دہلی میں ایس آئی آر کے دوران ووٹروں کو بھیجے گئے ’لاجیکل ڈسکریپینسی‘ نوٹسوں کی بنیاد کے بارے میں الیکشن کمیشن سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے ان نوٹسوں کے لیے استعمال کیے گئے معیار اور طریقہ کار پر وضاحت مانگی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ مناسب سماعت کے بغیر کسی ووٹر کا نام فہرست سے حذف نہیں کیا جائے گا۔ 

کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے بھی اس سیاسی تنازع پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کیے جانے کے تاریخی آئینی فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کا تقابل کرتے ہوئے ووٹنگ کے حق اور موجودہ ایس آئی آر تنازع پر سیاسی تبصرہ کیا۔

آئین کی 61ویں ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 326 کے تحت ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 21 سال سے کم کرکے 18 سال کی گئی تھی۔

فی الحال ایس آئی آر تنازع میں مختلف فریقوں کے الگ الگ دعوے اور وضاحتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اپوزیشن ووٹر لسٹ میں تبدیلی، ایس آئی آر کے طریقہ کار اور الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اعتراضات کو لے کر سوال اٹھا رہی ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلے اتفاق رائے سے کیے گئے۔ اس طرح یہ معاملہ سیاسی بحث کے ساتھ ساتھ انتظامی اور عدالتی سطح پر بھی زیر بحث ہے۔

News Image

الیکشن کمیشن میں 14 اعتراضات، اکھلیش یادو نے سوال اٹھائے

  • دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے جانے کی رپورٹ کے بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعتراضات کا تعلق ووٹر لسٹ، نئے ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے، نام بحال کرنے، Form 6 اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ SIR سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے اتفاق رائے کے ساتھ کیے گئے۔
BY SHIRIN ·