تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
یوپی راجیہ سبھا انتخابات میں ایس پی نے دو امیدوار اتارے، آج نامزدگی


اتر پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے انتخابات کے لیے اپنے دو امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے سینئر رہنما پروفیسر رام گوپال یادو اور دھنراج پرمل ناتھوانی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ دونوں امیدوار بدھ کے روز اپنے نامزدگی کے کاغذات داخل کریں گے۔

سماج وادی پارٹی کی جانب سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے کیا گیا۔ پارٹی کے اعلان کے بعد اتر پردیش میں راجیہ سبھا انتخابات کو لے کر سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ دونوں امیدوار بدھ کو نامزدگی کا عمل مکمل کریں گے۔

نامزدگی کے دوران سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو بھی موجود رہیں گے۔ پارٹی کے دیگر سینئر رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کی بھی اس موقع پر موجودگی متوقع ہے۔ امیدواروں کے نامزدگی داخل کرنے کے ساتھ ہی انتخابات کے اگلے مرحلے کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔

پروفیسر رام گوپال یادو سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنماؤں میں شامل ہیں۔ انہیں پارلیمانی سیاست کا طویل تجربہ حاصل ہے۔ وہ کئی برسوں سے پارٹی کی سیاسی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں فعال رہے ہیں۔ راجیہ سبھا میں بھی ان کا طویل تجربہ رہا ہے۔

پارٹی نے ایک مرتبہ پھر رام گوپال یادو کو راجیہ سبھا کے لیے امیدوار بنا کر ان کے پارلیمانی تجربے پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ وہ مختلف مواقع پر پارلیمنٹ میں پارٹی کا موقف پیش کرتے رہے ہیں اور کئی اہم معاملات پر بحث میں حصہ لے چکے ہیں۔

دوسری جانب سماج وادی پارٹی نے دھنراج پرمل ناتھوانی کو اپنا دوسرا امیدوار بنایا ہے۔ ان کے نام کا اعلان رام گوپال یادو کے ساتھ کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے سماج وادی پارٹی کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ واضح ہو گیا ہے۔

دونوں امیدواروں کی نامزدگی کے دوران پارٹی کے سینئر رہنماؤں اور اراکین اسمبلی کی موجودگی متوقع ہے۔ اکھلیش یادو کی موجودگی بھی نامزدگی کے اس پروگرام کو سیاسی طور پر اہم بناتی ہے۔ پارٹی کی جانب سے نامزدگی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹنگ کا طریقہ عام براہ راست انتخابات سے مختلف ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا کے ارکان کے انتخاب میں ریاستی اسمبلی کے منتخب اراکین ووٹ دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاستی اسمبلی میں مختلف سیاسی جماعتوں کی عددی پوزیشن انتخابی عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

نامزدگی کے بعد امیدواروں کے کاغذات کی جانچ اور دیگر انتخابی رسمی کارروائیاں مکمل کی جائیں گی۔ ان مراحل کے بعد انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی حتمی صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی۔

اتر پردیش راجیہ سبھا میں سب سے زیادہ نمائندگی رکھنے والی ریاست ہے۔ ریاست سے منتخب ہونے والے ارکان پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اتر پردیش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے ریاست میں ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات پر قومی سطح پر بھی نظر رہتی ہے۔

سماج وادی پارٹی کی جانب سے دونوں امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعد اب سب کی نظریں نامزدگی کے عمل پر ہیں۔ بدھ کو دونوں امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی داخل کریں گے اور اس دوران اکھلیش یادو بھی موجود رہیں گے۔

نامزدگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد کاغذات کی جانچ سمیت دیگر انتخابی مراحل شروع ہوں گے۔ اس کے بعد راجیہ سبھا انتخابات کی حتمی صورتحال مزید واضح ہوگی۔ فی الحال سماج وادی پارٹی نے اپنے دونوں امیدواروں کے ناموں کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور انتخابی عمل میں اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

News Image

ایس آئی آر تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج

  • ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن کا احتجاج تیز ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 10 ماہ کے دوران دو دیگر الیکشن کمشنروں نے مختلف فیصلوں پر 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے متفقہ طور پر کیے گئے۔
BY SHIRIN ·
News Image

الیکشن کمیشن میں 14 اعتراضات، اکھلیش یادو نے سوال اٹھائے

  • دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات درج کیے جانے کی رپورٹ کے بعد سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر سوال اٹھائے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعتراضات کا تعلق ووٹر لسٹ، نئے ووٹروں کے اندراج، نام حذف کرنے، نام بحال کرنے، Form 6 اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے تھا۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ SIR سمیت تمام حتمی فیصلے تینوں کمشنروں کی منظوری سے اتفاق رائے کے ساتھ کیے گئے۔
BY SHIRIN ·