تازہ خبریں طرز زندگی
نائس کے میئر کی مخالفت، 2030 اولمپکس آئس ہاکی وینیو پر نظرثانی

 2030 سرمائی اولمپکس کے منتظمین آئس ہاکی مقابلوں کے لیے متبادل مقامات تلاش کر رہے ہیں، کیونکہ نائس میں سیاسی مخالفت کے باعث اصل منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔

ساحلی شہر نائس کو ابتدائی طور پر انڈور آئس مقابلوں کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا، جہاں مرکزی فٹبال اسٹیڈیم کو عارضی آئس رِنک میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تھا۔ تاہم یہ منصوبہ نئے منتخب میئر ایرک سیوتی کی مخالفت کا شکار ہو گیا ہے، جو ٹورنامنٹ کے دوران کئی ماہ تک مقامی فٹبال کلب کی سرگرمیوں میں خلل کے خلاف ہیں۔

سیوتی، جو دائیں بازو کی سیاست سے وابستہ ہیں، نے اسٹیڈیم کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس سے مقامی کھیلوں اور کمیونٹی مفادات متاثر ہوں گے۔ اس موقف نے منتظمین کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور انہیں اپنے منصوبے پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔

اس کے نتیجے میں اب پیرس اور لیون جیسے شہروں پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں پہلے سے موجود بڑے انڈور اسٹیڈیم آئس ہاکی مقابلوں کے لیے زیادہ موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔ یہ اقدام عارضی ڈھانچے بنانے کے اخراجات اور انتظامی مشکلات کو کم کرنے کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

منتظمین کے مطابق نائس میں دیگر اسٹیڈیمز کو تبدیل کرنے کے حوالے سے تکنیکی، مالی اور انتظامی مسائل سامنے آئے، جس کے باعث بڑے شہروں میں موجود انفراسٹرکچر کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

حتمی فیصلہ آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے، جس کے بعد سفارشات منتظمین کے ایگزیکٹو بورڈ کو پیش کی جائیں گی۔ اس کے بعد انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی منظوری کے ساتھ مقامات کی حتمی فہرست جاری کی جائے گی۔

اگرچہ آئس ہاکی کے مقام کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، تاہم نائس میں ہونے والے دیگر اولمپک مقابلے متاثر نہیں ہوں گے۔ شہر کے نمائش مرکز میں ایک اور آئس رِنک تعمیر کیے جانے کا منصوبہ برقرار ہے، جس سے کچھ سرگرمیاں وہیں جاری رہیں گی۔

یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بڑے عالمی کھیلوں کے انعقاد میں مقامی سیاست اور کمیونٹی مفادات کو متوازن رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، جس سے منتظمین کو مؤثر اور پائیدار حل تلاش کرنا پڑتا ہے۔
News Image

شان اسٹرک لینڈ نے خامزات چیمائیف کو شکست دے کر یو ایف سی ٹائٹل جیت لیا

  • شان اسٹرک لینڈ نے یو ایف سی 328 کے مرکزی مقابلے میں خامزات چیمائیف کو اسپلٹ فیصلے سے ہرا کر مڈل ویٹ چیمپئن شپ دوبارہ اپنے نام کر لی۔
BY Saba Parveen ·