ایرانی فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ وہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے دوران قومی ٹیم پر عائد سفری پابندیوں کے خلاف فیفا سے رجوع کرے گی۔ فیڈریشن کے مطابق ان پابندیوں نے ٹیم کی تیاریوں اور کوچنگ اسٹاف کے منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ٹیم نے اپنے اگلے گروپ میچ سے دو روز قبل میکسیکو کے شہر تیجوانا سے لاس اینجلس جانے کی اجازت مانگی تھی تاکہ کھلاڑی مقامی حالات سے ہم آہنگ ہو سکیں اور آخری ٹریننگ سیشن مکمل کر سکیں، تاہم یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 سے برابر رہنے والے میچ کے بعد ایرانی ٹیم کو چند گھنٹوں کے اندر امریکہ چھوڑ کر دوبارہ میکسیکو واپس جانا پڑا۔ ایرانی فیڈریشن کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ٹیم کو دیگر ممالک کے مقابلے میں نقصان پہنچ رہا ہے۔
امریکی حکام نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ ٹیم کو صرف میچ سے ایک دن قبل امریکہ میں داخلے کی اجازت ہوگی اور میچ ختم ہونے کے دن ہی واپس جانا ہوگا۔ یہی طریقہ کار آئندہ میچوں پر بھی لاگو رہے گا۔
ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت پہلے ہی کئی سیاسی اور سفارتی تنازعات کا شکار رہی ہے، اور اب سفری پابندیوں کا معاملہ بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ ایران کو امید ہے کہ فیفا اس مسئلے کا جائزہ لے کر تمام ٹیموں کے لیے یکساں شرائط کو یقینی بنائے گا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


