کامن ویلتھ گیمز 2026 میں بھارت کو ایک اور بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اولمپک چیمپئن اور عالمی شہرت یافتہ جیولن تھرو ایتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مردوں کے جیولن تھرو مقابلے کے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ کوالیفائنگ راؤنڈ میں انہوں نے اعتماد کے ساتھ کھیل پیش کیا اور آسانی سے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
یہ کامیابی اس لیے بھی خاص ہے کیونکہ نیرج چوپڑا تقریباً آٹھ برس بعد کامن ویلتھ گیمز میں واپسی کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایڈیشن میں وہ انجری کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکے تھے، لیکن اس مرتبہ انہوں نے زبردست انداز میں واپسی کرتے ہوئے ثابت کر دیا کہ وہ آج بھی دنیا کے بہترین جیولن تھرو کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
بھارت کے لیے خوشی کی بات صرف نیرج تک محدود نہیں رہی۔ ان کے علاوہ دو مزید بھارتی کھلاڑیوں نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ اس کے بعد بھارت کے پاس اس ایونٹ میں ایک سے زیادہ تمغے جیتنے کا سنہری موقع موجود ہے۔
فائنل میں ایک مرتبہ پھر بھارت کے نیرج چوپڑا اور پاکستان کے ارشد ندیم کے درمیان سنسنی خیز مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں کھلاڑی گزشتہ کئی برسوں سے عالمی سطح پر ایک دوسرے کے بڑے حریف رہے ہیں اور ان کی ہر ٹکر کھیل کے شائقین کی توجہ کا مرکز بنتی ہے۔
نیرج چوپڑا کا تجربہ، تکنیک اور بڑے مقابلوں میں شاندار ریکارڈ انہیں مضبوط امیدوار بناتا ہے، جبکہ ارشد ندیم بھی بہترین فارم میں ہیں۔ ایسے میں سونے کے تمغے کی دوڑ نہایت دلچسپ ہونے کی امید ہے۔
اب بھارتی شائقین کی نظریں فائنل پر مرکوز ہیں، جہاں نیرج چوپڑا ایک بار پھر ملک کے لیے گولڈ میڈل جیتنے کی کوشش کریں گے۔ اگر بھارتی کھلاڑی اپنی بہترین کارکردگی برقرار رکھتے ہیں تو ایتھلیٹکس میں بھارت کے لیے یہ ایک اور تاریخی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔






.jpg)
.jpg)




.webp)


