*نئی دہلی:* لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ کی حالیہ تحریک کے معاملے پر ایک بار پھر مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں طلبہ کے ساتھ ہونے والا برتاؤ تشویشناک ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ نظام نوجوانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بیان ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی طلبہ تحریک کے اختتام کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس تحریک کے دوران مختلف ریاستوں میں طلبہ نے امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ کئی مقامات پر احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
راہل گاندھی نے بہار میں طلبہ کے احتجاج کے دوران سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مظاہرین کے خلاف شدید طاقت استعمال کیے جانے اور بڑی تعداد میں طلبہ کی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے دہلی میں ہونے والے احتجاج کا بھی ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوجوان اپنے مستقبل اور تعلیم سے متعلق مطالبات کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائی پر معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا نوجوان پہلے ہی تعلیم، امتحانات اور روزگار جیسے مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں اگر ان کی آواز دبائی جاتی ہے تو اس سے جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت اس معاملے پر اپنا موقف پیش کر سکتی ہے۔ حکام کا کہنا رہا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی کارروائی کا مقصد عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ یہ معاملہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا رہ سکتا ہے۔






.jpg)
.jpg)




.webp)


