ہماچل پردیش کے ضلع سرمور میں ضلع پریشد انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد صدر اور نائب صدر کے عہدوں کو لے کر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے 17 میں سے 13 نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔
اس بار ضلع پریشد کے صدر کا عہدہ درج فہرست ذات کی خاتون کے لیے مخصوص ہے، جس کے باعث بی جے پی کی دو منتخب خاتون اراکین سرِفہرست امیدواروں کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
سروج بالا نے نیری کوٹلی وارڈ سے کامیابی حاصل کی ہے جبکہ شوانی کماری داداہو وارڈ سے منتخب ہوئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ ان دونوں میں سے ایک کو ضلع پریشد کی صدارت سونپی جا سکتی ہے۔
نائب صدر کے عہدے کے لیے بھی مختلف سیاسی مساوات زیر غور ہیں۔ اگر شوانی کماری کو صدر منتخب کیا جاتا ہے تو سراہاں وارڈ سے کامیاب ہونے والے بی جے پی رہنما بلدیو سنگھ بھنڈاری نائب صدر کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب اگر سروج بالا کو صدر بنایا جاتا ہے تو نائب صدر کا عہدہ شلائی یا ناہن علاقے کے کسی نمائندے کو دیا جا سکتا ہے۔ اس صورت میں خواتین کو دونوں اہم عہدوں پر موقع ملنے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
17 رکنی ضلع پریشد میں بی جے پی نے 13 نشستیں جیت کر اکثریت حاصل کی ہے، جبکہ کانگریس کو 3 نشستیں اور ایک نشست آزاد امیدوار کے حصے میں آئی ہے۔
اب تمام نظریں بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر راجیو بندل کے فیصلے پر مرکوز ہیں، جن کے حتمی اعلان کے بعد ضلع پریشد کی نئی قیادت کا فیصلہ ہوگا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


