ترنمول کانگریس کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں شکست کے بعد پارٹی کے 14 ارکانِ پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں سینئر بی جے پی رہنماؤں سے ملاقات کی، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں مغربی بنگال کے بی جے پی رہنما شوبھیندو ادھیکاری اور سابق وزیر اعلیٰ بپلب دیب بھی موجود تھے۔
اس ملاقات کو ٹی ایم سی کے اندر بڑھتی بے چینی اور ممکنہ سیاسی تبدیلیوں کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اس سے قبل سابق راجیہ سبھا رکن سکھندو شیکھر رے نے اپنے تمام جماعتی عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے ان سے ملاقات کی۔
اپنے بیان میں رے نے کہا کہ حالیہ انتخابی نتائج عوام کی جانب سے ٹی ایم سی حکومت کے خلاف واضح پیغام ہیں۔ انہوں نے بدعنوانی، قانون و انتظام، روزگار، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بھی تنقید کی۔
اگرچہ ابھی تک کسی رکن نے باضابطہ طور پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا، لیکن حالیہ ملاقاتوں نے مغربی بنگال کی سیاست میں نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


