تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
بنگال بجٹ میں ایک لاکھ نوکریاں، خواتین کے لیے مفت بس سروس

مغربی بنگال حکومت نے پیر کے روز مالی سال 2026-27 کا اپنا پہلا مکمل بجٹ اسمبلی میں پیش کیا، جس میں روزگار، فلاحی منصوبوں اور ترقیاتی اقدامات سے متعلق کئی اہم اعلانات کیے گئے۔

بجٹ کا سب سے بڑا اعلان ایک لاکھ خالی سرکاری آسامیوں پر بھرتی کا ہے۔ حکومت کے مطابق ان ملازمتوں میں 33 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مختص کیا جائے گا تاکہ خواتین کو معاشی طور پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

ریاستی سرکاری ملازمین اور پنشن یافتگان کے لیے مہنگائی الاؤنس میں 20 فیصد اضافے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی ڈی اے 38 فیصد ہو جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم اپریل 2026 سے ہوگا۔

خواتین کے لیے مفت بس سروس جاری رکھنے کے لیے 550 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے والی خواتین کو خصوصی پنک کارڈ جاری کیے جائیں گے۔

حکومت نے اعلان کیا کہ تمام جاری فلاحی منصوبے بدستور جاری رہیں گے۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ صحافیوں کو ماہانہ 5 ہزار روپے پنشن اور ریاستی ٹرانسپورٹ کے بس کنڈکٹروں کے معاوضے میں اضافے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ترقیاتی منصوبوں کے تحت GRAMG اسکیم کے لیے 14 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید برآں کانتھی کو نیا پولیس ضلع، گوپی بلّبھ پور کو نیا سب ڈویژن بنانے اور ریاست بھر میں نئے فائر اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے کان کنی کے شعبے میں شفافیت بڑھانے کے لیے تمام کانوں کی نیلامی مرکزی حکومت کے ای آکشن نظام کے ذریعے کرانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

News Image

1. راہل گاندھی کی جائیداد کے معاملے میں چیف جسٹس کی سرزنش، پوچھا: کیا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

  • کانگریس رہنما راہل گاندھی کے خلاف مبینہ طور پر آمدنی سے زائد اثاثوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے درخواست کی بنیاد پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ معاملہ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ الہ آباد ہائی کورٹ کے تحقیقاتی حکم پر عبوری روک لگا چکی ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

وندے ماترم نہ گانا کیا جرم ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے جواب مانگا

  • وندے ماترم کے تمام 6 اشعار گانے کو لازمی قرار دینے اور اسے نہ گانے پر سزا کے امکان سے متعلق دائر کی گئی عرضی پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں بنیادی حقوق اور سابقہ فیصلوں کی روشنی میں قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
BY SHIRIN ·