تازہ خبریں طرز زندگی
اسرائیلی حملوں کے دوران لبنان اور شام تعلقات دوبارہ ترتیب دینے لگے

Lebanon اور Syria کے درمیان تعلقات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک باہمی خودمختاری اور تعاون کی بنیاد پر نئے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

9 مئی کو لبنان کے وزیراعظم Nawaf Salam نے دمشق کا دوسرا سرکاری دورہ کیا۔ اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان نئے سیاسی فریم ورک کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق سابق شامی صدر Bashar al-Assad کے اقتدار کے خاتمے نے خطے کی سیاست میں بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ شام کے نئے صدر Ahmed al-Sharaa لبنان کے ساتھ برابری پر مبنی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

شام نے لبنانی-شامی ہائر کونسل کو معطل کر دیا ہے، جسے ماضی میں لبنان پر شامی اثر و رسوخ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ دونوں ممالک سفارتی سطح پر بھی تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لبنان اور شام کے تعلقات کئی دہائیوں سے پیچیدہ رہے ہیں۔ 1976 میں لبنان کی خانہ جنگی کے دوران شام نے فوجی مداخلت کی تھی اور 2005 تک لبنان میں اس کا نمایاں سیاسی اثر برقرار رہا۔

اسد حکومت کے خاتمے سے Hezbollah بھی متاثر ہوا کیونکہ شام ایران سے اس کی مدد اور اسلحہ کی فراہمی کا اہم راستہ تھا۔ نئی شامی حکومت اب بین الاقوامی تعلقات بہتر بنانے اور معیشت کی بحالی پر توجہ دے رہی ہے۔

دونوں ممالک اس وقت سرحدی سلامتی، قیدیوں کی منتقلی، مہاجرین کی واپسی اور انسانی مسائل پر بات چیت کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی حملوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ جنوبی لبنان اور شام میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اگرچہ لبنان اور شام اسرائیلی کارروائیوں پر مشترکہ تشویش رکھتے ہیں، لیکن فی الحال دونوں ممالک کسی مشترکہ حکمت عملی پر کام کرتے نظر نہیں آتے۔ دونوں حکومتیں اس وقت اندرونی استحکام کو ترجیح دے رہی ہیں۔

News Image

سری لنکا کا ایندھن سبسڈی کا اعلان، توانائی بحران میں بھارت کی حمایت حاصل

  • سری لنکا نے ویسٹ ایشیا تنازع کے باعث بڑھتے معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایندھن سبسڈی متعارف کرائی۔ بھارت نے پٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے پر اتفاق کیا جبکہ روس کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے۔
BY Muhammad Ajmal ·