تازہ خبریں طرز زندگی
امریکہ نے ایران کو ورلڈ کپ میں اجازت دی، مگر آئی آر جی سی سے جڑے افراد پر پابندی

 امریکہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو 2026 فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس کے ساتھ آنے والے افراد پر سخت پابندیاں عائد ہوں گی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ کھلاڑیوں پر کوئی پابندی نہیں ہوگی، لیکن ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کورآئی آر جی سی سے وابستہ افراد کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

روبیو نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان افراد سے ہے جو مختلف کرداروں کے تحت ملک میں داخل ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکیورٹی خدشات کے باعث ایسے افراد کو روکا جائے گا، کیونکہ واشنگٹن آئی آر جی سی کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ کا مقصد کھلاڑیوں کی شرکت میں رکاوٹ ڈالنا نہیں ہے۔

ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت اس سال کے آغاز میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد زیر بحث آ گئی تھی۔ چونکہ ایران کے تمام گروپ میچز امریکہ میں شیڈول ہیں، اس لیے یہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ آیا ٹیم کو کھیلنے کی اجازت ملے گی یا نہیں۔

تاہم کشیدگی کے باوجود ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ٹورنامنٹ کی تیاری جاری ہے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ ٹیم کی شرکت یقینی بنانے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

دوسری جانب یہ تجویز بھی سامنے آئی تھی کہ اٹلی کو ایران کی جگہ ٹورنامنٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس پر تنازع پیدا ہو گیا۔ تاہم اطالوی حکام نے اس خیال کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کپ میں جگہ میدان میں کارکردگی کی بنیاد پر ملنی چاہیے، نہ کہ سیاسی فیصلوں سے۔

ایران نے مسلسل چوتھی بار کوالیفائی کر کے ٹورنامنٹ میں جگہ بنائی ہے۔ اگرچہ ملک نے درخواست کی تھی کہ اس کے میچز امریکہ سے باہر منتقل کیے جائیں، لیکن یہ تجویز قبول نہیں کی گئی۔ موجودہ صورتحال کے مطابق ایران اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی میچز کھیلے گا۔
2026 فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہوگا اور اس کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کریں گے۔
News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·