واشنگٹن۔ امریکہ اور ایران نے کئی برسوں سے جاری کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے تاریخی امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کر دیے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فرانس میں ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران مفاہمتی یادداشت (MoU) کو حتمی شکل دی۔
اس معاہدے پر ورسائی محل میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران دستخط کیے گئے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بھی ڈیجیٹل دستخطوں کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو چکا ہے۔
دستخط کے بعد جاری ہونے والی ویڈیو میں ٹرمپ نے کہا، "امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ میں نے ورسائی میں اس پر دستخط کیے۔ یہ آسان نہیں تھا، لیکن ہم نے اسے مکمل کر لیا۔"
معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے باہمی دشمنی ختم کرنے اور اسٹریٹ آف ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ابتدائی معاہدے پر نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف پہلے ہی دستخط کر چکے تھے، جبکہ حتمی منظوری جمعہ کے روز دی گئی۔
اس معاہدے کو امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم خطے کے دیگر سکیورٹی اور سفارتی معاملات پر مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے۔






.jpg)
.jpg)
-1782103217151_v.webp)




.webp)


