متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے مبینہ طور پر ایران جنگ کے ابتدائی مراحل میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو ایران کا نیا رہنما بنانے کے منصوبے پر غور کیا تھا۔
رپورٹس میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ یہ حکمت عملی ایران کی اعلیٰ قیادت پر بڑے حملوں کے بعد سامنے آئی، جب بعض حکام کو محسوس ہوا کہ تہران میں نظام کی تبدیلی کا موقع پیدا ہو سکتا ہے۔
محمود احمدی نژاد، جو 2005 سے 2013 تک ایران کے صدر رہے، اپنی سخت مغرب مخالف اور اسرائیل مخالف پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر جانے جاتے تھے۔
تاہم رپورٹس کے مطابق بعض حکام نے حالیہ برسوں میں ایرانی اسٹیبلشمنٹ سے ان کے بڑھتے اختلافات کے باعث انہیں ایک ممکنہ عبوری شخصیت کے طور پر دیکھا۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ جنگ کے بعد ایران کے سیاسی مستقبل سے متعلق مباحثوں میں احمدی نژاد سے مبینہ طور پر مشاورت بھی کی گئی تھی۔
ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران میں ان کی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملے کا مقصد انہیں نظر بندی سے آزاد کرانا تھا تاکہ جنگ کے ابتدائی دنوں میں انہیں سیاسی کردار دیا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق سابق ایرانی صدر اس حملے میں زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔
بعد ازاں مبینہ طور پر وہ اس منصوبے سے بددل ہو گئے اور تعاون بند کر دیا۔ ان کی موجودہ مقام کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی حکام کا خیال تھا کہ احمدی نژاد عبوری مرحلے میں ایران کی سیاسی اور عسکری صورتحال سنبھال سکتے ہیں، اگرچہ دونوں ممالک کے سکیورٹی حلقوں میں اس خیال پر شکوک بھی موجود تھے۔
اقتدار چھوڑنے کے بعد احمدی نژاد کے ایرانی قیادت سے اختلافات مسلسل بڑھتے گئے تھے۔ انہوں نے حکام پر کرپشن اور سیاسی دباؤ کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔
گزشتہ برسوں میں انہیں کئی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا جبکہ ان کے متعدد قریبی ساتھیوں کو گرفتاریوں اور تحقیقات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاہم نہ واشنگٹن اور نہ ہی تل ابیب نے ان مبینہ منصوبوں کی سرکاری طور پر تصدیق کی ہے۔