ڈیجیٹل ڈیسک، تہران/واشنگٹن
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک سوئٹزرلینڈ میں ایک تاریخی امن معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس معاہدے کی سب سے نمایاں شق ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو پیکیج کی فراہمی ہے۔
معاہدے پر دستخط سے قبل ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "مہر" نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) کا مسودہ شائع کیا ہے۔ اس میں فوجی کشیدگی ختم کرنے، ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجاویز شامل ہیں۔
اگرچہ تہران اور واشنگٹن نے اس دستاویز کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی، تاہم اسے وسیع امن عمل کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں اس پر باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔
کئی ماہ کی بات چیت کے بعد معاہدہ تیار
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا بنیادی مقصد دشمنی کا خاتمہ اور آئندہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ اگلے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور معاشی بحالی جیسے معاملات پر گفتگو ہوگی۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی تصدیق کی ہے کہ کئی ماہ کی بات چیت کے بعد مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ کونسل نے اس عمل کو "اسلام آباد مذاکرات" کا نام دیا ہے، جو ثالثی میں پاکستان کے ممکنہ کردار کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
14 نکاتی امن معاہدے کے اہم نکات
رپورٹ کے مطابق مسودے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
- لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ-
- ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا امریکی وعدہ۔
- 30 دن کے اندر بحری ناکہ بندی کا خاتمہ۔
- ایران کے اطراف سے امریکی افواج کا انخلا۔
- آبنائے ہرمز کو 30 دن کے اندر دوبارہ کھولنا۔
- ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر پابندیوں میں نرمی۔
- توانائی کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی تک ایران کی مکمل رسائی۔
- ایران کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کا تعمیرِ نو پیکیج۔
- جوہری معاملات پر حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت۔
- جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت ایران کے عہد کی تجدید۔
- مذاکرات کے دوران نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا امریکی وعدہ۔
- ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار رہائی۔
- معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے خصوصی نظام کا قیام۔
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ذریعے حتمی منظوری۔
جوہری پروگرام کا مسئلہ اب بھی حل طلب
اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معاہدے کو تقریباً مکمل قرار دیا ہے، لیکن جوہری پروگرام سے متعلق کئی اہم معاملات اب بھی زیرِ بحث ہیں۔
مسودے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا ذکر موجود ہے، لیکن یورینیم افزودگی کی حد، معائنہ کاروں کے اختیارات اور جوہری تنصیبات کے مستقبل کے بارے میں واضح تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
توقع ہے کہ ان معاملات پر آئندہ 60 روز کے دوران الگ مذاکرات کیے جائیں گے۔
حتمی مذاکرات سے قبل ایران کی شرائط
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا ہے کہ جامع مذاکرات اسی وقت آگے بڑھیں گے جب امریکہ ابتدائی وعدوں پر عمل درآمد کرے گا۔
ایران کی اہم شرائط میں منجمد اثاثوں کی رہائی، پابندیوں میں نرمی اور بحری پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے بغیر اگلے مرحلے کی بات چیت ممکن نہیں۔
اگرچہ سامنے آنے والا مسودہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم اس کی کئی تفصیلات کی ابھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اور دونوں حکومتوں نے مکمل متن سرکاری طور پر جاری نہیں کیا ہے۔






.jpg)
.jpg)
-1782103217151_v.webp)




.webp)


