تازہ خبریں طرز زندگی
امریکہ اور ایران کی جانب سے جہازوں کی ضبطی پر عالمی تشویش

 سمندر میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عالمی شپنگ برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جہازوں کی ضبطی بین الاقوامی قوانین کو کمزور کر رہی ہے اور بے گناہ عملے کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

انٹرنیشنل چیمبر آف شپنگ کے ایک سینئر عہدیدار نے دونوں ممالک کی حالیہ کارروائیوں کو آزادیٔ جہاز رانی کے اصول کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا، جو عالمی بحری نظام کی بنیاد ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ تجارتی جہاز رانی کو کبھی بھی سیاسی یا فوجی تنازعات کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

ادارے کے مطابق ان واقعات میں پھنسنے والے ملاح کسی جغرافیائی یا سیاسی تنازع کا حصہ نہیں بلکہ عالمی تجارت کو جاری رکھنے والے کارکن ہیں۔ ان کی گرفتاری، چاہے عارضی ہی کیوں نہ ہو، انسانی ہمدردی کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے اور ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔

کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب دونوں جانب سے جہاز ضبط کیے گئے۔ امریکہ نے مبینہ طور پر پابندیوں سے جڑے تیل بردار جہازوں کو روکا، جبکہ ایرانی فورسز نے قواعد کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ جہازوں کو حراست میں لیا۔ ان جوابی اقدامات نے خطے میں کام کرنے والی شپنگ کمپنیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے، جسے ماہرین نے بین الاقوامی سمندری قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر اس طرح کے اقدامات کو معمول بنا دیا گیا تو دنیا کے دیگر اہم آبی راستے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے عالمی تجارت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کی، جس سے پہلے ہی حساس سمندری راستوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں۔ شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط میں غیر واضح صورتحال نے آپریشنز کو مزید مشکل اور غیر متوقع بنا دیا ہے۔

اگرچہ بعض حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زیر حراست عملہ محفوظ ہے، لیکن ان کی مکمل حالت کے بارے میں محدود معلومات دستیاب ہیں۔ دوسری جانب ہزاروں ملاح کم ہوتی بحری سرگرمیوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں انہیں ذہنی اور عملی مشکلات کا سامنا ہے۔

آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، میں جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس خلل نے عالمی توانائی منڈیوں پر اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور حکومتیں ہنگامی اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔

شپنگ ماہرین نے امریکہ اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور بین الاقوامی پانیوں میں محفوظ راستوں کو بحال کریں۔ ان کے مطابق کھلے اور محفوظ سمندری راستے نہ صرف عالمی تجارت بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی انتہائی ضروری ہیں۔
News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·