ایران سے متعلق تنازع 59ویں دن میں داخل ہو چکا ہے، جہاں ایک جانب سفارتی کوششوں میں تیزی آئی ہے تو دوسری جانب خطے میں فوجی کشیدگی بدستور جاری ہے۔ ایرانی حکام جنگ کے خاتمے کے لیے اہم عالمی شراکت داروں سے رابطے بڑھا رہے ہیں، جبکہ امریکا نے بھی مشروط طور پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ان سفارتی کوششوں کے مرکز میں ہیں اور مختلف علاقائی و عالمی دارالحکومتوں کے دورے کر رہے ہیں۔ پاکستان اور عمان میں بات چیت کے بعد وہ مزید مذاکرات کے لیے روس پہنچ گئے ہیں، جہاں دو طرفہ تعلقات اور وسیع تر تنازع پر گفتگو متوقع ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ سفارتی رابطے مثبت رہے ہیں اور امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
علاقائی تعاون بھی اہم ترجیح بنا ہوا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے، جو عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران اور عمان نے محفوظ بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ اس اہم راستے پر اپنی گرفت ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے اور اسے اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔
واشنگٹن سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اگر ایران چاہے تو مذاکرات کا آغاز کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی مخالفت اپنی جگہ برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب خطے کے مختلف حصوں میں تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں عام شہری بھی شامل ہیں، حالانکہ جنگ بندی کا معاہدہ موجود ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حملوں میں زخمی بھی ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے۔ حزب اللہ نے اپنے حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت فریقین کو ممکنہ مذاکراتی فریم ورک کے قریب لا سکتی ہے، تاہم بڑے مسائل اب بھی موجود ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے۔
جنگ کے طول پکڑنے کے ساتھ صورتحال فوجی دباؤ اور سفارتی سرگرمیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج بن چکی ہے، جہاں فوری حل نظر نہیں آتا لیکن عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بڑھتی جا رہی ہیں۔