قطر کے سابق وزیرِاعظم اور وزیرِخارجہ شیخ حمد بن جاسم آل ثانی نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے کو تبدیل کر رہی ہے اور خطے میں طویل مدتی عدم استحکام کے خطرات بڑھا رہی ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ حمد نے کہا کہ یہ تنازع اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ اسرائیل کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد فوجی دباؤ اور سیاسی اتحادوں کے ذریعے خطے کی نئی تشکیل کرنا ہے۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا کہ وہ جنگ کو “گریٹر اسرائیل” کے تصور کو آگے بڑھانے اور خطے میں مزید تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز پر تشویش شیخ حمد نے آبنائے ہرمز کے بحران کو اس جنگ کا سب سے خطرناک نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبی راستہ اب عالمی کشیدگی کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اب اس آبنائے کو اپنی اسٹریٹجک طاقت کا حصہ سمجھتا ہے اور وہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ قطر کے سابق رہنما نے جنگ کے دوران خلیجی انفراسٹرکچر پر حملوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ خلیجی ممالک نے جنگ کی مخالفت کے باوجود معاشی اور سیاسی نقصان اٹھایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک اور ایران کو بالآخر براہِ راست مذاکرات اور اجتماعی علاقائی گفتگو کے ذریعے ایک ساتھ رہنے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ خلیجی دفاعی اتحاد کی تجویز شیخ حمد نے متحد خلیجی دفاعی اور سیاسی اتحاد کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے “گلف نیٹو” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی سلامتی کے لیے علاقائی اتحاد ضروری ہے اور خبردار کیا کہ خلیجی ممالک اب مکمل طور پر امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ واشنگٹن اپنی اسٹریٹجک توجہ ایشیا کی طرف منتقل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ترکیہ، پاکستان اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ مضبوط شراکت داری خلیجی ممالک کی سلامتی اور سیاسی اثر و رسوخ کو بڑھا سکتی ہے۔ غزہ جنگ پر تنقید غزہ کی جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے شیخ حمد نے اسرائیل پر انسانی بحران پیدا کرنے کا الزام لگایا اور فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی بات ایک آزاد فلسطینی ریاست کے واضح سیاسی راستے کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ قطر کے سابق وزیرِاعظم نے سعودی عرب کے اس مؤقف کو بھی سراہا جس میں فلسطینی ریاست کی ضمانت کے بغیر اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے انکار کیا گیا ہے۔ شیخ حمد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قطر نے 1990 کی دہائی کے آخر میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطہ کار کا کردار ادا کیا تھا۔
قطر کے سابق وزیرِاعظم مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی پر گفتگو کرتے ہوئے۔