تازہ خبریں طرز زندگی
ٹرمپ اور ایران نے نئی بات چیت کے اشارے دیے، لبنان جنگ بندی میں دوبارہ توسیع

ایران نے امریکہ کے ساتھ نئی مذاکراتی کوششوں کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان نازک جنگ بندی میں ایک بار پھر توسیع کر دی گئی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس اجلاس کے دوران کہا کہ تہران کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں جاری علاقائی تنازع ختم کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے۔

تاہم عراقچی نے کہا کہ ایران کے افزودہ جوہری مواد اور اس کے جوہری پروگرام کے مستقبل پر اب بھی بڑے اختلافات موجود ہیں۔

ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا کہ اگر تہران وسیع تر معاہدے کے لیے سنجیدہ عزم دکھائے تو واشنگٹن ایران کے سول جوہری پروگرام کو عارضی طور پر تقریباً دو دہائیوں تک معطل کرنے کی تجویز قبول کر سکتا ہے۔

ایران نے کہا کہ وہ مستقبل کے مذاکرات میں چین جیسے ممالک کی معاونت کا خیرمقدم کرے گا۔

دوسری جانب لبنان اور اسرائیل نے واشنگٹن کی ثالثی کے بعد اپنی جنگ بندی میں اصل مدت ختم ہونے کے بعد مزید 45 دن کی توسیع پر اتفاق کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جنوبی لبنان میں سکیورٹی انتظامات اور استحکام کی کوششوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

اس معاہدے کے باوجود جمعہ کو جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملے جاری رہے۔ لبنانی حکام کے مطابق قصبوں اور دیہات پر حملوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے جن میں تین طبی امدادی کارکن بھی شامل تھے۔

ایک اسرائیلی فضائی حملے میں جنوبی لبنانی شہر صور میں ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ متعدد علاقوں کے رہائشیوں کو پہلے ہی انخلا کی وارننگ دی گئی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے کے دوران 220 سے زیادہ حزب اللہ جنگجوؤں کو ہلاک کیا اور جنوبی لبنان میں 440 سے زیادہ اہداف پر حملے کیے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اس سال کے آغاز سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

لبنانی حکام نے جنگ بندی میں توسیع اور امریکہ کی سہولت کاری سے قائم ہونے والے سکیورٹی نظام کو طویل مدتی استحکام کی جانب ممکنہ راستہ قرار دیا ہے۔

ایران میں حکام نے تہران پر حالیہ حملوں کے اثرات سے متعلق نئے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ جاری تنازع سے منسلک حملوں میں 1,260 سے زیادہ افراد ہلاک اور کم از کم 2,800 زخمی ہوئے ہیں۔

حکام کے مطابق دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جس میں ہزاروں گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا کہ تہران کی جانب سے متعارف کروائے گئے نئے قانونی ضوابط قبول کیے جانے کے بعد اب آبنائے ہرمز سے مزید بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں چین نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی آزادی سے متعلق امریکی حمایت یافتہ قرارداد کی مخالفت کا اشارہ دیتے ہوئے اس کے وقت اور مواد پر تنقید کی۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے والی نئی آئل پائپ لائن کی تعمیر تیز کرنے اور حساس آبی گزرگاہ سے باہر برآمدی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ میں استغاثہ نے ایران نواز کتائب حزب اللہ گروپ سے منسلک ایک مبینہ اعلیٰ کمانڈر پر یورپ اور کینیڈا میں حملوں سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ تازہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب علاقائی طاقتیں مزید کشیدگی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔

News Image

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی حملے دوبارہ شروع کیے تو “طویل اور دردناک” جوابی کارروائیاں ہوں گی

  • تہران نے خلیجی خطے میں جوابی حملوں کی دھمکی دی ہے جبکہ کمزور جنگ بندی اور جاری ناکہ بندی کے باوجود امریکہ کے ساتھ کشیدگی برقرار ہے۔
BY Saba Parveen ·