تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
*حوثی باغیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب نے نیتن یاہو کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟


دہلی:* مشرق وسطیٰ میں اسرائیل، ایران اور ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے درمیان کشیدگی کے دوران یمن کے حوثی باغیوں سے متعلق ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں سعودی عرب کو شامل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

اس پیش رفت نے اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات اور خطے میں دونوں ممالک کی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دونوں ممالک کو علاقائی سلامتی سے متعلق بعض مشترکہ خدشات لاحق ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہر فوجی کارروائی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ یمن میں حوثیوں کے خلاف کسی فوجی مہم میں شامل ہونے کا فیصلہ سعودی عرب کے لیے سلامتی، سفارت کاری اور سیاست کے اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے۔

 نیتن یاہو نے سعودی عرب سے رابطہ کیوں کیا؟

اطلاعات کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو نے امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب سے رابطہ کیا تھا۔ اس رابطے کا مقصد یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں سعودی عرب کی شرکت حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔

حوثی یمن میں سرگرم ایک مسلح سیاسی اور فوجی تحریک ہیں، جنہیں ایران کی حمایت حاصل ہے۔ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور خطے میں ان کی سرگرمیوں کے باعث سمندری سلامتی اور عالمی تجارت کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔

بحیرہ احمر عالمی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت متاثر ہونے سے سامان کی ترسیل، تجارتی اخراجات اور عالمی سپلائی چین پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اسرائیل کے لیے حوثیوں کی سرگرمیاں سلامتی کا ایک اہم مسئلہ رہی ہیں۔ ایسے میں سعودی عرب جیسے علاقائی ملک کی شرکت کسی بھی فوجی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کی جانب سے پیش کی گئی تجویز اور اس کی مکمل تفصیلات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

 محمد بن سلمان نے تجویز کیوں مسترد کی؟

اطلاعات کے مطابق، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نیتن یاہو کی تجویز قبول نہیں کی۔ تاہم، اس فیصلے کے پیچھے ان کی جانب سے دی گئی کسی تفصیلی اور باضابطہ وضاحت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ اس کے باوجود، سعودی عرب کی علاقائی پالیسی اور سلامتی کی ترجیحات کو سمجھنے سے اس معاملے کے ممکنہ پہلو واضح ہو سکتے ہیں۔

1. یمن میں دوبارہ بڑے تنازع کا خطرہ

سعودی عرب طویل عرصے سے یمن کے تنازع سے متاثر رہا ہے۔ اگر حوثیوں کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع ہوتی یا اس کا دائرہ بڑھتا، تو سعودی عرب کو میزائل اور ڈرون حملوں سمیت مزید سلامتی کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

ریاض کے لیے ایک طویل فوجی تنازع میں دوبارہ الجھنے سے بچنا اہم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی نئی کارروائی میں شامل ہونے سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

2. خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

حوثیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہونے کے باعث ان کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہ سکتے۔ اس سے اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے اور دوسرے علاقائی ممالک کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ ایسی کارروائی اس کی سلامتی کو بہتر بنائے گی یا اسے مزید خطرات سے دوچار کر دے گی۔ خطے میں استحکام برقرار رکھنا اس کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

3. سعودی عرب کی آزاد خارجہ پالیسی

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی اپنے قومی مفادات، اقتصادی اہداف، علاقائی تعلقات اور سلامتی کی ضروریات کے مطابق تشکیل دی جاتی ہے۔ کسی ملک کے ساتھ بعض سلامتی کے خدشات مشترک ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سعودی عرب اس کی ہر فوجی تجویز کی حمایت کرے گا۔

کسی بھی فوجی مہم میں شامل ہونے سے پہلے ریاض کو اس کے ممکنہ فوائد، اخراجات، سفارتی اثرات اور طویل مدتی نتائج کا جائزہ لینا ہوگا۔

4. اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی حساسیت

سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات تاریخی طور پر پیچیدہ رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کو خطے میں بعض مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن ان کی سیاسی ترجیحات اور سفارتی پالیسیوں میں فرق بھی موجود ہے۔

فلسطین کا مسئلہ سعودی عرب اور وسیع تر عرب دنیا کی سیاست میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کے ساتھ کسی فوجی کارروائی میں شامل ہونا سعودی عرب کے لیے سیاسی طور پر حساس قدم ہو سکتا ہے۔

یہ نکات ممکنہ اسٹریٹجک وجوہات کی وضاحت کرتے ہیں، لیکن انہیں محمد بن سلمان کے فیصلے کی باضابطہ طور پر تصدیق شدہ وجوہات نہیں سمجھنا چاہیے۔

 حوثی باغی علاقائی سلامتی کے لیے چیلنج کیوں ہیں؟

یمن میں سرگرم حوثی تحریک کا اثر ملک کی سیاست اور اندرونی تنازع سے آگے بڑھ کر علاقائی سلامتی تک پہنچ چکا ہے۔ بحیرہ احمر اور اس کے اطراف میں جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں نے عالمی تجارت اور سمندری راستوں کی حفاظت سے متعلق خدشات کو بڑھایا ہے۔

ان سرگرمیوں کے باعث کئی ممالک کو تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے اقدامات پر غور کرنا پڑا ہے۔ حوثیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دھمکیوں اور حملوں نے بھی خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

ایران کی حمایت اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اسی وجہ سے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی کو اکثر ایران، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے درمیان وسیع تر علاقائی مقابلے کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔

تاہم، ایسی کسی بھی کارروائی میں جوابی حملوں، طویل جنگ، شہری آبادی کو نقصان پہنچنے اور یمن میں عدم استحکام بڑھنے کے خدشات موجود رہتے ہیں۔

 امریکی ثالثی کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟

اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے سعودی عرب سے رابطے کے لیے امریکہ کی ثالثی کا سہارا لیا تھا۔ امریکہ کے اسرائیل کے ساتھ قریبی اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی اس کے اہم سفارتی اور سلامتی کے روابط موجود ہیں۔

امریکی ثالثی علاقائی ممالک کے درمیان بات چیت اور رابطے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ تاہم، ثالثی کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ ملک کسی تجویز کو لازماً قبول کر لے گا۔

سعودی عرب کو کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے پہلے اپنے قومی مفادات، سلامتی کے تقاضوں اور علاقائی تعلقات کو مدنظر رکھنا ہوگا۔ اس فیصلے کا انحصار ممکنہ فوائد اور خطرات کے جائزے پر ہوگا۔

 مشرق وسطیٰ کی سیاست پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اگر سعودی عرب حوثیوں کے خلاف اسرائیل کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی میں شامل ہوتا، تو اس سے مشرق وسطیٰ کے علاقائی تعلقات متاثر ہو سکتے تھے۔ ایک طرف دونوں ممالک کے درمیان سلامتی کے شعبے میں تعاون کے امکانات بڑھ سکتے تھے، جبکہ دوسری طرف ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا تھا۔

اس کے علاوہ، ایسا قدم سعودی عرب کی علاقائی ساکھ، فلسطین کے معاملے پر اس کی پالیسی اور دوسرے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں کسی فوجی اتحاد کا فیصلہ صرف عسکری فائدے کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے طویل مدتی سیاسی نتائج بھی اہم ہوتے ہیں۔

فی الحال، دستیاب اطلاعات کے مطابق، نیتن یاہو نے سعودی عرب کو حوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن محمد بن سلمان نے مبینہ طور پر اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کی اصل وجوہات اور دونوں فریقوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات کی باضابطہ تصدیق کے بغیر کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
 

News Image

دہلی کے نارتھ بلاک میں دھواں اٹھنے سے ہلچل، فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں موقع پر پہنچیں، مرمت کے دوران معمولی آگ لگنے کا شبہ

  • نئی دہلی میں مرکزی سیکریٹریٹ کے نارتھ بلاک کی چھت سے پیر کی صبح دھواں اٹھنے کی اطلاع کے بعد ہلچل مچ گئی۔ دہلی فائر سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چھ فائر انجن موقع پر روانہ کیے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، عمارت میں مرمت کا کام جاری تھا اور اسی دوران معمولی آگ لگنے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ ابتدائی اطلاع میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی خبر نہیں ہے، جبکہ دھواں اٹھنے کی اصل وجہ اور ممکنہ نقصان کے بارے میں تفصیلی معلومات کا انتظار ہے۔
BY SHIRIN ·
News Image

آبنائے ہرمز حملہ، بھارتی شہری ہلاک

  • امریکا کی پانچ گھنٹے کارروائی، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ
BY Shirin ·