تازہ خبریں ⁄ طرز زندگی
لبنانی شہریوں کی واپسی، نازک جنگ بندی امید اور خدشات

 لبنان اور اسرائیل کے درمیان 10 دن کی نازک جنگ بندی کے آغاز کے بعد ہزاروں بے گھر لبنانی شہری ملک کے جنوبی علاقوں میں اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی اور خدشات سے بھری ہوئی ہے۔

جنگ بندی کے نافذ ہوتے ہی بڑی تعداد میں لوگ متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ ہوئے تاکہ ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد ہونے والے نقصان کا جائزہ لے سکیں۔ نباطیہ جیسے علاقوں میں، جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے، واپس آنے والوں کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ وہ مزید انتظار نہیں کر سکتے تھے، چاہے جنگ بندی عارضی ہی کیوں نہ ہو۔

تاہم لبنانی فوج نے شہریوں کو فوری واپسی سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے، کیونکہ غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد اور دوبارہ جھڑپوں کا خطرہ موجود ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں جنگ بندی کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنوبی دیہات پر وقفے وقفے سے گولہ باری شامل ہے۔

اس تنازع کے انسانی اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ لڑائی میں 2,100 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباً 1.2 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ پورے کے پورے علاقے تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث کچھ خاندانوں نے واپس آنے کے بعد دوبارہ نقل مکانی کا فیصلہ کیا اور حالات کو “ناقابلِ رہائش” قرار دیا۔

کشیدگی بدستور برقرار ہے، جہاں حزب اللہ نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے دریائے لیتانی تک ایک بفر زون برقرار رکھنے کے ارادے ظاہر کیے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی رہنماؤں نے بھی جنگ بندی کی نازک نوعیت پر تشویش ظاہر کی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے خبردار کیا کہ جاری فوجی سرگرمیاں اس معاہدے کو کمزور کر سکتی ہیں اور دونوں جانب شہریوں کے تحفظ پر زور دیا۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ خطے میں جاری وسیع تر مذاکرات، خصوصاً ایران سے متعلق بات چیت، پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

اگرچہ یہ جنگ بندی وقتی سکون فراہم کر رہی ہے، مگر غیر یقینی صورتحال بدستور موجود ہے۔ بہت سے لبنانی خاندانوں کے لیے گھروں کو واپسی امید اور خوف دونوں کا مجموعہ ہے—استحکام کی امید اور کسی بھی لمحے دوبارہ تشدد شروع ہونے کا خدشہ۔
News Image

1. دہلی میں انڈیا اتحاد کی ریلی سے 10 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا خدشہ، تاجروں کا راہل گاندھی کو خط

  • دہلی کے رام لیلا میدان میں یکم نومبر کو مجوزہ انڈیا اتحاد کی ریلی کے حوالے سے تاجروں نے تشویش ظاہر کی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) نے راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی دیوالی کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیم کا خدشہ ہے کہ سڑکوں کی بندش، بیریکیڈنگ اور ٹریفک جام کے باعث دہلی کے بڑے بازاروں میں کاروبار متاثر ہوسکتا ہے اور تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے تک کا نقصان ہوسکتا ہے۔ یہ رقم تنظیم کا اندازہ ہے، حتمی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔
BY SHIRIN ·
News Image

وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق کھرگے کے بیان پر سیاسی تنازع، پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں کا احتجاج، کانگریس سے معافی کا مطالبہ

  • ملکارجن کھرگے کے مبینہ بیان پر پٹنہ میں بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا اور وزیر اعظم مودی کے مرحوم والد سے متعلق تبصرے پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کانگریس قیادت سے معافی کا مطالبہ کیا۔
BY SHIRIN ·