*نئی دہلی:* دارالحکومت دہلی کے جنتر منتر میں جاری احتجاج کے دوران ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا، جہاں ایک خاتون دلہن کے مکمل روایتی لباس میں احتجاج میں شریک ہوئیں۔ ان کے اس علامتی انداز نے نہ صرف احتجاج میں موجود لوگوں بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی بھی توجہ حاصل کر لی۔
خاتون کے ہاتھ میں *"RIP Career"* لکھا ہوا ایک پوسٹر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے نوجوانوں کے مستقبل اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی۔ ان کی تصاویر اور ویڈیوز دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ وہ بھی کبھی NEET جیسے امتحان کی تیاری کرنا چاہتی تھیں، لیکن مسلسل سامنے آنے والے تنازعات اور مبینہ بے ضابطگیوں نے ان کا اعتماد متزلزل کر دیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، *"اب جب کیریئر بنتا نظر نہیں آ رہا تو شادی ہی کر لو۔"* ان کے مطابق یہ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کے احساسات کی عکاسی ہے، جو محنت کے باوجود اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
احتجاج کے دوران خاتون نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اصلاحات ضروری ہیں۔
جنتر منتر میں جاری احتجاج میں بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوان اور مختلف تنظیموں کے کارکن شریک ہوئے، جنہوں نے امتحانی اصلاحات، پیپر لیک کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف نظامِ تعلیم کا مطالبہ کیا۔
دلہن کے لباس میں کیا گیا یہ علامتی احتجاج پورے دن موضوعِ بحث بنا رہا۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اسے نوجوانوں کی مایوسی کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے پُرامن اور تخلیقی احتجاج کی مثال بتایا۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


