اتر پردیش میں اگرچہ مانسون کی رفتار سست پڑ گئی ہے، لیکن پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث ریاست کے بڑے دریاؤں کے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ گنگا، جمنا، گھاگھرا اور سرجو سمیت کئی اہم دریا خطرے کے نشان کے قریب پہنچ رہے ہیں، جس سے دریا کنارے آباد دیہات میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
پریاگ راج میں گنگا اور جمنا کا پانی گھاٹوں تک پہنچ چکا ہے۔ متعدد گھاٹوں پر قائم چھوٹی دکانیں اور عبادت گاہیں پانی میں گھر گئی ہیں۔ عقیدت مند زیرِ آب تختوں پر بیٹھ کر پوجا پاٹھ کرتے نظر آئے۔ انتظامیہ نے دریا کنارے رہنے والے لوگوں سے احتیاط برتنے اور بلا ضرورت دریا کے قریب نہ جانے کی اپیل کی ہے۔
بلیا ضلع میں سرجو اور گھاگھرا دریاؤں کے کناروں پر شدید کٹاؤ شروع ہو گیا ہے۔ کٹاؤ کے باعث بانسدیہ علاقے کے قریب تقریباً 150 خاندان اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
بجنور ضلع میں مالن دریا طغیانی پر ہے۔ کئی دیہی علاقوں میں چھوٹے پلوں کے اوپر سے پانی بہہ رہا ہے، جس کے باعث آمد و رفت متاثر ہوئی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو احتیاط برتنے اور پانی سے بھرے راستوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مہاراج گنج میں پیر کی دیر شام شروع ہونے والی بارش منگل کی صبح تک جاری رہی۔ ادھر لکھنؤ، بارہ بنکی اور ایودھیا میں صبح کے وقت بادل چھائے رہے، تاہم دن چڑھنے کے ساتھ دھوپ نکل آئی۔ محکمۂ موسمیات نے منگل کے روز ریاست کے 25 اضلاع میں بارش اور گرج چمک کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ دیگر اضلاع میں شدید حبس اور گرمی برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ بعض مقامات پر درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق پاکستان کی جانب سے آنے والی خشک ہوائیں مغربی اتر پردیش میں مانسون کو کمزور کر رہی ہیں، جس کے باعث مانسونی بادل تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ اس کا اثر پورے شمالی ہندوستان میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ آئندہ تین سے چار دن تک مغربی اتر پردیش میں اچھی بارش کے امکانات کم ہیں، جبکہ مشرقی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے صرف 16 اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث دریاؤں کا پانی بڑھ رہا ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں مانسون کمزور پڑ گیا ہے۔ اس صورتِ حال سے ایک جانب سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے، تو دوسری جانب کئی اضلاع میں گرمی اور حبس نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم۔ مہاپاترا کے مطابق اس سال بحرالکاہل میں لا نینا جیسی موسمی کیفیت ختم ہو کر ایل نینو کی جانب بڑھ رہی ہے۔ ایل نینو عموماً مانسون کو کمزور کرتا ہے، جس کے نتیجے میں معمول سے کم بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سال کے آغاز میں شمالی نصف کرے میں کم برف باری بھی مانسون کو متاثر کرنے والی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
سینئر سائنس دان اتل سنگھ کے مطابق اتر پردیش میں جون سے ستمبر کے دوران عموماً 820 سے 840 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، لیکن اس سال تقریباً 8 فیصد کم یعنی 754 سے 773 ملی میٹر بارش ہونے کا امکان ہے۔
محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں اتر پردیش میں مانسون معمول سے 10 سے 15 فیصد زیادہ فعال رہا تھا اور جون سے ستمبر کے درمیان تقریباً 870 سے 900 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس کے مقابلے میں سال 2026 میں مانسون نسبتاً کمزور رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


