پونے کے نوجوان رئیل اسٹیٹ کاروباری کیتن اگروال کے قتل کے معاملے میں ان کی والدہ راکھی اگروال نے وزیرِاعظم نریندر مودی کو ایک جذباتی خط لکھ کر انصاف کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی ہمدردی یا خصوصی رعایت کی خواہش مند نہیں بلکہ صرف یہ چاہتی ہیں کہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے۔
اپنے خط میں راکھی اگروال نے لکھا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن انہیں اپنے ہی بیٹے کے لیے انصاف مانگنا پڑے گا۔ ہر ماں کی طرح ان کا بھی خواب تھا کہ کیتن خوشحال زندگی گزارے، شادی کرے اور اپنے خاندان کے ساتھ رہے، لیکن قسمت نے انہیں اپنے بیٹے کی آخری رسومات ادا کرنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بیٹے کی موت نے پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ گھر کا ہر کونا انہیں کیتن کی یاد دلاتا ہے اور اس کی کمی ہر لمحہ محسوس ہوتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس صدمے کے تقریباً بیس دن بعد کیتن کے دادا بھی غم برداشت نہ کر سکے اور انتقال کر گئے۔
راکھی اگروال نے وزیرِاعظم سے درخواست کی کہ اس مقدمے کی فوری اور منصفانہ سماعت یقینی بنائی جائے تاکہ مجرموں کو جلد سزا مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کو محض ایک مقدمے کی فائل بن کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ ان کے لیے کیتن صرف ایک بیٹا نہیں بلکہ پوری دنیا تھا۔
پولیس کے مطابق 18 جون کو کیتن اگروال کی موت کو ابتدا میں حادثہ سمجھا گیا تھا، لیکن بعد کی تحقیقات میں یہ ایک منصوبہ بند قتل ثابت ہوا۔ اس کے بعد پولیس نے کیتن کی منگیتر سیا گوئل اور اس کے مبینہ ساتھی چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا۔
تحقیقات کے مطابق دونوں نے مبینہ طور پر لوناگڑھ قلعے کی سیر کے دوران سازش کے تحت کیتن کو پہاڑی سے دھکا دے کر قتل کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر فارنزک ثبوت اس منصوبہ بند قتل کی تصدیق کرتے ہیں۔
دونوں ملزمان اس وقت عدالتی تحویل میں ہیں جبکہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


