اتر پردیش میں مانسون دوبارہ سرگرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کئی اضلاع میں بارش ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ محکمۂ موسمیات نے 36 اضلاع کے لیے بارش، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی کا الرٹ جاری کیا ہے۔ دریاؤں کی سطح بلند ہونے سے کئی علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔
خبر
اتر پردیش میں مانسون کی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہونے لگی ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں بارش کے بعد محکمۂ موسمیات نے 36 اضلاع میں بارش، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی گرنے کی وارننگ جاری کی ہے۔
لکھنؤ، امیٹھی، بارہ بنکی، ہردوئی، رائے بریلی، سیتاپور اور اُناؤ سمیت کئی اضلاع میں آئندہ چند گھنٹوں کے دوران موسلا دھار بارش اور 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے باعث گنگا، جمنا، سرयू اور گھاگھرا دریاؤں کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔ وارانسی میں گنگا کا پانی بڑھنے سے دشاشومیدھ گھاٹ کی سیڑھیاں زیرِ آب آ گئی ہیں، تاہم انتظامیہ کے مطابق دریا اب بھی خطرے کی سطح سے کافی نیچے بہہ رہا ہے۔
پریاگ راج میں گنگا اور جمنا کا پانی گھاٹوں کے قریب دکانوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ کانپور میں گنگا بیراج کے کئی گیٹ کھول دیے گئے ہیں۔ متھرا اور ورنداون میں جمنا کا پانی بڑھنے سے کیشی گھاٹ کی کئی سیڑھیاں ڈوب گئی ہیں اور ریور فرنٹ کی تعمیر عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
بلیا ضلع میں سرयू اور گھاگھرا کے کناروں پر شدید کٹاؤ جاری ہے، جس کے باعث تقریباً 150 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل ہو رہے ہیں۔
بارہ بنکی، لکھنؤ اور سیتاپور میں بارش کے بعد کئی علاقوں میں پانی جمع ہو گیا، جبکہ آگرہ، ایودھیا، بریلی اور سنبھل میں آئندہ دنوں مزید بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق پاکستان کی جانب سے آنے والی خشک ہواؤں کی وجہ سے ریاست کے بیشتر علاقوں میں مانسون کمزور پڑ گیا ہے۔ تاہم خلیج بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا نظام مضبوط ہو رہا ہے، جس کے باعث 17 جولائی کے بعد بارش میں اضافہ متوقع ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


