تازہ خبریں طرز زندگی
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال پر دہلی ہائی کورٹ میں درخواست، صحت پر تشویش بڑھ گئی

نئی دہلی کے جنتر منتر پر جاری غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کے دوران ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی صحت مسلسل تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے۔ ان کی بگڑتی ہوئی جسمانی حالت کے پیش نظر دہلی ہائی کورٹ میں ایک عوامی مفاد کی درخواست (PIL) دائر کی گئی ہے، جس میں عدالت سے فوری مداخلت کرتے ہوئے انہیں طبی سہولت فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر رہنے کے باعث سونم وانگچک کی صحت میں مسلسل گراوٹ آ رہی ہے۔ ان کا وزن نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے جبکہ بلڈ پریشر بھی معمول سے نیچے آ گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اگر بروقت طبی امداد فراہم نہ کی گئی تو ان کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

درخواست میں مرکزی حکومت، دہلی حکومت اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دینے کی استدعا کی گئی ہے کہ سونم وانگچک کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر کے مکمل طبی معائنہ اور ضروری علاج فراہم کیا جائے۔ اگر ڈاکٹروں کی رائے میں ضرورت ہو تو ان کی جان بچانے کے لیے مناسب قانونی اقدامات بھی کیے جائیں۔

سونم وانگچک گزشتہ کئی روز سے جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شامل ہیں اور مسلسل بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور امتحانی معاملات میں شفافیت و جوابدہی کے مطالبات کے لیے کیا جا رہا ہے۔

احتجاج سے وابستہ افراد کی جانب سے جاری طبی معلومات کے مطابق وانگچک کی جسمانی حالت پہلے کے مقابلے میں کافی کمزور ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ ان کا بلڈ پریشر کم ہو گیا ہے اور ان کے وزن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھوک ہڑتال طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کے سنگین طبی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

اس احتجاج کو مختلف سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ احتجاجی مقام پر عوامی مباحثے، لیکچرز اور آگاہی پروگرام بھی منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوانوں اور تعلیمی مسائل پر عوامی توجہ مرکوز کی جا سکے۔

اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا کہ کسی ایک شخص کو ہیرو بنانے کے بجائے ہر شہری کو اپنی ذمہ داری خود نبھانی چاہیے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور مجوزہ پارلیمنٹ مارچ میں بھرپور شرکت کریں۔

اب اس معاملے پر سب کی نظریں دہلی ہائی کورٹ کی سماعت پر مرکوز ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ عدالت کا فیصلہ نہ صرف سونم وانگچک کی طبی دیکھ بھال بلکہ طویل بھوک ہڑتال اور پُرامن احتجاج سے متعلق قانونی پہلوؤں پر بھی اہم اثر ڈال سکتا ہے۔

News Image

بھرت تیواری معاملہ، خاندان کے الزامات سے سیاسی تنازع بڑھا

  • بہار کے بھوجپور ضلع میں پولیس مقابلے میں مارے گئے بھرت بھوشن تیواری کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ خاندان نے جن سوراج کے بانی پرشانت کشور پر انصاف کا یقین دلانے کے بعد انتخابی مہم چلانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ جن سوراج نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
BY Shirin ·