بھارت نے بھارتی عملے والے تجارتی جہازوں پر حالیہ حملوں پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے یوکرین کے سفیر ڈاکٹر اولیکساندر پولیشچک کو طلب کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح قرار دیا۔
یہ اقدام اس واقعے کے بعد اٹھایا گیا جس میں ہفتہ کے روز یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا پر موجود تجارتی جہاز *ایم وی اے جی این راگنار* کو نشانہ بنایا گیا۔ اس جہاز پر چار بھارتی عملے کے ارکان موجود تھے۔ واقعے کے بعد بھارتی حکام نے صورتِ حال پر قریبی نظر رکھی اور متعلقہ اداروں سے مسلسل رابطے میں رہے تاکہ عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
اوڈیسا بحیرۂ اسود کی اہم بندرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور 2022 میں روس۔یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ علاقہ مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے۔ ان حالات کے باعث بین الاقوامی تجارتی جہازوں کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
بھارت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتی شہریوں اور بھارتی عملے والے جہازوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ حکومت نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔






.jpg)
.jpg)




.webp)


