دہلی میں ایک ہی وقت میں دو بڑے احتجاجی مظاہروں نے سیاسی اور انتظامی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک جانب جنتر منتر پر CJP کا احتجاج جاری ہے، جبکہ دوسری جانب پنجاب سے کسان تنظیمیں بھارت۔امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف دہلی کی جانب مارچ کی تیاری کر رہی ہیں۔
صورتحال کے پیش نظر دہلی اور ہریانہ کی سرحدوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، بیریکیڈز لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کی چیکنگ بڑھا دی گئی ہے۔
CJP کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کر رہے ہیں، جبکہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن قانون و امن برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
ادھر کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر تجارتی معاہدے کے تحت زرعی شعبے میں غیر ملکی کمپنیوں کا کردار بڑھتا ہے یا درآمدی قوانین تبدیل ہوتے ہیں تو اس سے بھارتی کسانوں کی آمدنی اور زرعی منڈی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے کسی بھی معاہدے سے پہلے کسانوں سے مشاورت کی جائے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ہر بین الاقوامی تجارتی معاہدے میں قومی مفاد اور کسانوں کے مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔
دو بڑے احتجاج ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے انتظامیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق پرامن احتجاج جمہوری حق ہے، تاہم مسائل کے حل کے لیے حکومت اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔
اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا کسانوں کو دہلی میں داخلے کی اجازت ملے گی، CJP کا احتجاج کس سمت آگے بڑھے گا اور کیا حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرے گی۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


