سماجی کارکن سونم وانگچک کو نئی دہلی کے جنتر منتر سے ہفتہ کی صبح خراب ہوتی صحت کے باعث صفدرجنگ اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔
وانگچک نیٹ پیپر لیک معاملے کی شفاف تحقیقات اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے گزشتہ 21 دنوں سے بھوک ہڑتال پر تھے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کا تقریباً 9.5 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے اور ان کی صحت تشویشناک ہو گئی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے حکومت کو روزانہ طبی معائنہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر علاج فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
وانگچک کے اسپتال منتقل ہونے کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ انہوں نے پولیس پر بدسلوکی کا الزام لگایا، جبکہ دہلی پولیس نے کہا کہ کارروائی عدالت کے حکم کے مطابق پرامن انداز میں کی گئی۔
وانگچک کے ساتھ تین طلبہ بھی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں ایک طالبہ کو شدید ہائپوگلیسیمیا کے باعث اسپتال میں داخل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اسپتال کے باہر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ مظاہرین نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
Al generated image 





.jpg)
.jpg)





.webp)


