اتر پردیش میں مانسون کی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ ایودھیا میں رات کے وقت تیز آندھی کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے باعث رام مندر جانے والے بھکتی پتھ پر تقریباً ایک فٹ پانی جمع ہو گیا۔ لکھنؤ، سنبھل، ہاتھرس، دیوریا اور آگرہ سمیت کئی اضلاع میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔
لکھنؤ میں رات بھر وقفے وقفے سے بارش ہونے کے باعث کئی علاقوں میں پانی بھر گیا۔ پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارش کے اثرات اب ریاست کے بڑے دریاؤں پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔
متھرا میں دریائے جمنا کی سطح بلند ہونے سے ورنداون کے کیشی گھاٹ کی کئی سیڑھیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ اگرچہ دریا ابھی وارننگ لیول سے نیچے بہہ رہا ہے، تاہم انتظامیہ مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
پریاگ راج میں گنگا اور جمنا کا پانی گھاٹوں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ کانپور میں گنگا کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب بلیا میں دریائے سراور گھاگھرا کے کناروں پر کٹاؤ تیز ہونے کے باعث کئی خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
محکمۂ موسمیات نے ریاست کے 33 اضلاع میں بارش، تیز ہواؤں اور آسمانی بجلی گرنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ شہریوں کو خراب موسم کے دوران احتیاط برتنے اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے آنے والی گرم اور خشک ہوائیں مانسون کو کمزور کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے اس سیزن میں اب تک معمول سے تقریباً 22 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ تاہم اگر خلیجِ بنگال میں نیا کم دباؤ کا نظام بنتا ہے تو آئندہ دنوں میں مانسون دوبارہ سرگرم ہو سکتا ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


