تازہ خبریں طرز زندگی
سرکاری یقین دہانی پر سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کی


*نئی دہلی:* سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 دن تک جاری رہنے والی اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال مرکزی حکومت کی یقین دہانیوں کے بعد ختم کر دی۔ حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، نئے قانون کی تیاری اور طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے مثبت اقدامات کا یقین دلایا۔

گزشتہ کئی دنوں سے سونم وانگچک کی صحت مسلسل خراب ہو رہی تھی، جس پر ڈاکٹروں نے تشویش ظاہر کی تھی۔ طبی ماہرین کی نگرانی میں ان کا علاج جاری تھا اور حکومت نے بھی ان کی صحت کو ترجیح دیتے ہوئے مذاکرات کا سلسلہ تیز کر دیا۔

ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا اور وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے درمیان کئی گھنٹوں تک اہم اجلاس ہوا، جس میں امتحانی اصلاحات، طلبہ کے مطالبات اور وانگچک کی صحت پر تفصیلی غور کیا گیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو سے فون پر بات کی اور یقین دلایا کہ حکومت طلبہ کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ وہ سونم وانگچک کو صحت کے پیش نظر بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کریں۔

اس کے بعد جے پی نڈا اور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اسپتال میں سونم وانگچک سے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی پیش کی۔ حکومت نے امتحانی نظام میں شفافیت بڑھانے اور اصلاحات کے لیے نیا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا وعدہ کیا۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف غیر ضروری قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے وسیع اصلاحات پر کام کیا جائے گا۔

ان یقین دہانیوں کے بعد سونم وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرتے ہوئے کہا کہ اس تحریک کا مقصد ہمیشہ طلبہ کے مستقبل اور تعلیمی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت اپنے وعدوں پر جلد عمل کرے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ لداخ واپس جانے سے پہلے وہ تحریک سے وابستہ طلبہ اور حامیوں سے ملاقات کریں گے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ انہوں نے پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج جاری رکھنے کی بھی اپیل کی۔

وزیراعظم نریندر مودی نے بھی سونم وانگچک کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کریں اور جلد مکمل صحت یاب ہوں۔

---
 

News Image

بھرت تیواری معاملہ، خاندان کے الزامات سے سیاسی تنازع بڑھا

  • بہار کے بھوجپور ضلع میں پولیس مقابلے میں مارے گئے بھرت بھوشن تیواری کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی رنگ اختیار کر لیا ہے۔ خاندان نے جن سوراج کے بانی پرشانت کشور پر انصاف کا یقین دلانے کے بعد انتخابی مہم چلانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام لگایا ہے، جبکہ جن سوراج نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
BY Shirin ·