کینیا کے وسطی شہر نانیوکی میں امریکی ایبولا قرنطینہ مرکز کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اپنے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے صحت سے متعلق خطرات کینیا پر منتقل کر رہا ہے۔
پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ یہ مرکز ایک فوجی ہوائی اڈے کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے، حالانکہ اس منصوبے کے خلاف عدالتی کارروائی بھی جاری ہے۔ مقامی آبادی کا مؤقف ہے کہ اس منصوبے سے آس پاس کے علاقوں کے لیے صحت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
یہ مرکز ان امریکی شہریوں کے لیے بنایا جا رہا ہے جو ایبولا وائرس کے رابطے میں آئے ہیں لیکن ان میں ابھی بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ امریکی حکام کے مطابق اگر کسی فرد میں علامات ظاہر ہوں تو اسے علاج کے لیے کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا جائے گا۔
جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کے باعث اس منصوبے پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ خاص طور پر بنڈی بوجیو ایبولا وائرس کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ اس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔






.jpg)
.jpg)





.webp)


