تازہ خبریں طرز زندگی
نیپال کے وزیر داخلہ مستعفی، سرمایہ کاری پر سوالات، ایک ماہ میں دوسرا استعفیٰ

 نیپال کے وزیر داخلہ سودان گرونگ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں استعفیٰ دے دیا، جس کے ساتھ ہی وہ وزیر اعظم بلینڈر شاہ کی نئی حکومت میں مستعفی ہونے والے دوسرے وزیر بن گئے ہیں۔ گرونگ نے اپنے فیصلے کی وجہ اپنی سرمایہ کاری اور دیگر مالی معاملات سے متعلق بڑھتے سوالات کو قرار دیا۔

38 سالہ رہنما نے اپنے بیان میں کہا کہ عوامی زندگی میں جوابدہی اور دیانت داری سب سے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی ذمہ داری اقتدار سے زیادہ اہم ہے اور عوام کا اعتماد ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے۔ گرونگ نے 27 مارچ کو نئی حکومت کے حصے کے طور پر عہدہ سنبھالا تھا۔

وزیر اعظم کے دفتر نے تصدیق کی کہ استعفیٰ قبول کر لیا گیا ہے اور بلینڈر شاہ عارضی طور پر وزارت داخلہ کا چارج سنبھالیں گے جب تک کسی نئے وزیر کا تقرر نہیں ہو جاتا۔

گرونگ حال ہی میں اس وقت خبروں میں آئے تھے جب انہوں نے سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ یہ اقدام گزشتہ سال نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کارروائی کی تحقیقات سے جڑا ہوا تھا۔

وزیر اعظم بلینڈر شاہ، جو بدعنوانی کے خلاف مہم کے ساتھ اقتدار میں آئے، اپنی حکومت کو شفافیت اور اصلاحات پر مبنی نظام کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کی نسبتاً نئی سیاسی جماعت نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں مضبوط کامیابی حاصل کی، جس سے صاف اور مؤثر قیادت کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔

اسی ماہ کے آغاز میں شاہ نے وزیر محنت دیپک کمار ساہ کو بھی عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب ان پر الزام لگا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو قومی ہیلتھ انشورنس بورڈ میں اہم عہدہ دلوانے کے لیے اپنے منصب کا غلط استعمال کیا۔ حکومت نے ایک 5 رکنی کمیشن بھی قائم کیا ہے، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج کر رہے ہیں، تاکہ سیاستدانوں اور سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی تحقیقات کی جا سکے۔

نیپال بدعنوانی کے مسائل سے مسلسل دوچار ہے اور کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں 180 ممالک میں 109ویں نمبر پر ہے۔ گرونگ کا استعفیٰ ملک کے سیاسی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کے حوالے سے بڑھتی نگرانی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
News Image

روس میں آئل ریفائنری پر حملوں کے بعد ماحولیاتی تباہی کے خدشات بڑھ گئے

  • توآپسے میں ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد زہریلی آلودگی، تیل کے اخراج اور "سیاہ بارش" کے واقعات نے ماحولیاتی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
BY Saba Parveen ·