تازہ خبریں طرز زندگی
روس میں آئل ریفائنری پر حملوں کے بعد ماحولیاتی تباہی کے خدشات بڑھ گئے

 جنوبی روس میں ایک بڑے ماحولیاتی بحران کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، جہاں بحیرہ اسود کے ساحلی شہر توآپسے میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری پر بار بار ڈرون حملے کیے گئے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی، زہریلی آلودگی پھیل گئی اور تیل کے اخراج نے زمینی اور سمندری ماحول کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

مقامی رضاکاروں کے مطابق حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ سیاہ مادے کی ایک موٹی تہہ گاڑیوں، عمارتوں اور جانوروں پر جم گئی ہے، جبکہ فضا میں تیل جیسی بدبو پھیلی ہوئی ہے۔ شہریوں نے ایک غیر معمولی مظہر "سیاہ بارش" کی بھی اطلاع دی ہے، جس میں دھوئیں اور راکھ سے ملی ہوئی بوندیں آسمان سے گرتی ہیں۔

یہ ریفائنری، جو علاقے کی بڑی تنصیبات میں شمار ہوتی ہے، اپریل میں کئی بار نشانہ بنی۔ ابتدائی حملوں کے بعد لگنے والی آگ کئی دنوں تک جلتی رہی، جس سے فضا میں گہرے دھوئیں کے بادل چھا گئے۔ فضائی معیار کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ بینزین اور راکھ جیسے خطرناک مادے محفوظ حد سے کہیں زیادہ مقدار میں موجود ہیں۔ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کی ہدایت دی۔

ماحولیاتی نقصان صرف ریفائنری تک محدود نہیں رہا۔ کئی ذخیرہ کرنے والے ٹینک تباہ ہونے کے باعث تیل قریبی دریا میں بہہ گیا اور وہاں سے بحیرہ اسود تک پہنچ گیا۔ اس اخراج نے ساحلی علاقوں کو آلودہ کر دیا ہے اور سمندری حیات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ہنگامی ٹیمیں اور رضاکار نقصان کو محدود کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کشتیوں کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ ساحل پر رکاوٹیں نصب کی گئی ہیں۔ صفائی کے عملے آلودہ مٹی ہٹا رہے ہیں اور تیل کے باقیات جمع کر رہے ہیں، لیکن نقصان کی وسعت کے باعث یہ کام نہایت مشکل ہو گیا ہے۔

جنگلی حیات بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر پرندے خطرے میں ہیں کیونکہ تیل ان کے پروں سے چپک کر انہیں اڑنے سے روکتا ہے اور زہر کا سبب بنتا ہے۔ رضاکاروں نے متاثرہ جانوروں کے علاج کے لیے مراکز قائم کیے ہیں جہاں پرندوں، بلیوں اور کتوں کو صاف کر کے علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اس کے طویل مدتی اثرات نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔ تیل سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے، آکسیجن کی کمی سے مچھلیوں اور دیگر جانداروں کی بڑی تعداد ہلاک ہو سکتی ہے، جبکہ زہریلے مادے خوراک کے سلسلے میں شامل ہو کر مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ جاری تنازع کے دوران ماحولیاتی بحرانوں کی ایک اور مثال ہے۔ اس سے قبل بھی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے آلودگی، قدرتی مساکن کی تباہی اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچ چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ بڑے اور آسان ہدف ہوتے ہیں۔ مزید حملوں کی صورت میں ماحولیاتی خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر مزید تیل کا اخراج یا آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

توآپسے میں صفائی کا عمل جاری ہے، لیکن خدشہ ہے کہ اصل نقصان کی مکمل تصویر وقت کے ساتھ سامنے آئے گی، جس کے اثرات ماحول اور مقامی آبادی دونوں پر دیرپا ہوں گے۔
News Image

روس میں آئل ریفائنری پر حملوں کے بعد ماحولیاتی تباہی کے خدشات بڑھ گئے

  • توآپسے میں ایک بڑی آئل ریفائنری پر ڈرون حملوں کے بعد زہریلی آلودگی، تیل کے اخراج اور "سیاہ بارش" کے واقعات نے ماحولیاتی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔
BY Saba Parveen ·