وکٹری ڈے کے بیانات سے سفارتکاری کی امیدیں
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اشارہ دیا ہے کہ یوکرین جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ سکتی ہے جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طویل مدتی امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
پیوٹن نے یہ بات ماسکو میں وکٹری ڈے تقریبات کے بعد کہی جہاں انہوں نے جنگ میں شامل روسی افواج کی تعریف کی اور کہا کہ “فتح ہماری ہو گی”۔ یہ سالانہ تقریب دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔
پریڈ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ تنازع “اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے” اور انہوں نے جنگ کے آغاز کا ذمہ دار مغربی طاقتوں اور نیٹو کی توسیع کو قرار دیا۔
جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا اعلان
روس اور یوکرین نے تین روزہ عارضی جنگ بندی اور دونوں جانب سے ایک ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد ممکنہ سفارتی پیش رفت کے حوالے سے محتاط امید پیدا ہوئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک نے پیر تک جنگ بندی کی ان کی تجویز قبول کر لی ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو جنگ کے “اختتام کی شروعات” قرار دیا۔
تاہم جنگ بندی کے اعلان کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتے رہے۔
پیوٹن کی زیلنسکی سے ملاقات پر آمادگی
پیوٹن نے کہا کہ وہ زیلنسکی سے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کے لیے تیار ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب حتمی امن معاہدہ مکمل ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی ملاقات مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ جامع معاہدے پر دستخط کے لیے ہو گی۔
زیلنسکی اس سے پہلے پیوٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کر چکے ہیں تاہم انہوں نے ماسکو جا کر مذاکرات کرنے کی تجاویز مسترد کر دی تھیں۔
چار سال سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ نے یوکرین میں وسیع تباہی پھیلائی ہے جبکہ روس پر بھی بڑھتا ہوا معاشی دباؤ ڈالا ہے۔ روسی افواج اب بھی مشرقی اور جنوبی یوکرین کے اہم علاقوں پر قابض ہیں، اگرچہ حالیہ مہینوں میں پیش قدمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔
پیوٹن نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ مستقبل میں علاقائی سلامتی کے معاملات پر بات چیت کے امکان کا بھی اشارہ دیا اور سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر کو مذاکرات کے لیے موزوں شخصیت قرار دیا۔
ماسکو میں وکٹری ڈے تقریبات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن