بھارت اور امریکہ نے اہم معدنیات اور ریئر ارتھ عناصر کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ یہ معاہدہ امریکہ کی اس حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس کے تحت وہ چین پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔
نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ Subrahmanyam Jaishankar اور امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کے درمیان ملاقات کے دوران اس معاہدے کو حتمی شکل دی گئی۔
اس فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کان کنی، پروسیسنگ، ری سائیکلنگ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھائیں گے۔ یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، دفاعی آلات اور قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔
لیتھیم، کوبالٹ، نکل اور ریئر ارتھ عناصر پر اس وقت چین کا عالمی غلبہ ہے، جبکہ دنیا کی زیادہ تر پروسیسنگ بھی چین میں ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک متبادل سپلائی چین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بھارت نے 30 اہم معدنیات کی نشاندہی کی ہے اور اڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں “ریئر ارتھ کوریڈورز” قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ کان کنی اور جدید ٹیکنالوجی کی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ کواڈ ممالک — بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا — نے بھی اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق اہم معدنیات اب صرف معاشی وسائل نہیں بلکہ عالمی سیاست، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔