تازہ خبریں طرز زندگی
سان ڈیاگو مسجد فائرنگ، نفرت انگیز جرم کے طور پر تحقیقات جاری

امریکا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامی مرکز پر فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ پولیس واقعے کو ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دے کر تحقیقات کر رہی ہے۔

میٹا ڈسکرپشن

سان ڈیاگو کے اسلامی مرکز میں فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کو ممکنہ ہیٹ کرائم قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

مرکزی خبر

امریکی شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو (ICSD) میں پیر کے روز پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک ہوگئے۔ حکام نے واقعے کو ممکنہ نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

سان ڈیاگو پولیس چیف Scott Wahl کے مطابق دو مشتبہ حملہ آور، جن کی عمریں تقریباً 17 اور 19 سال بتائی جا رہی ہیں، بعد میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں نے خود کو گولی ماری۔

حکام نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے تینوں افراد بالغ تھے جبکہ اسلامی مرکز کے اسکول میں موجود بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔

پولیس کے مطابق اسلامی مرکز کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو مزید خطرناک ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ حملے سے چند گھنٹے قبل ایک مشتبہ شخص کی والدہ نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ ان کا بیٹا لاپتہ ہے، ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور کئی ہتھیار ساتھ لے گیا ہے۔

کلیئرمونٹ علاقے میں واقع یہ اسلامی مرکز عبادت، تعلیم اور سماجی سرگرمیوں کا اہم مقام سمجھا جاتا ہے۔ مسجد کے امام Taha Hassane نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگوں کے لیے امن اور اتحاد کی علامت ہے۔

سان ڈیاگو کے میئر Todd Gloria نے مسلم کمیونٹی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ عبادت گاہوں کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔

واقعے کے بعد امریکا کے مختلف شہروں میں مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر Gavin Newsom اور ایف بی آئی ڈائریکر Kash Patel سمیت کئی رہنماؤں نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·