تازہ خبریں طرز زندگی
چینی اور ایرانی کمپنیاں مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں سرگرمیاں بڑھانے لگیں

چینی اور ایرانی کمپنیاں مشرقی یوکرین کے روسی قبضے والے علاقوں میں اپنی معاشی موجودگی کو تیزی سے بڑھا رہی ہیں اور تعمیرات، کان کنی، ٹیلی کمیونیکیشن اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہو چکی ہیں۔

2023 کے آخر میں دو چینی کمپنیوں نے مقبوضہ ڈونیٹسک میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے بھاری مشینری فراہم کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔

یہ علاقہ 2014 سے روسی حمایت یافتہ حکام کے کنٹرول میں ہے۔

مقامی قابض حکام کے مطابق یہ مشینری کان کنی اور تباہ شدہ علاقوں کی تعمیر نو میں استعمال کی جا رہی ہے۔

بڑے تعمیر نو منصوبوں میں بندرگاہی شہر ماریوپول بھی شامل ہے، جو 2022 کی شدید لڑائی کے دوران بری طرح تباہ ہو گیا تھا۔

مقبوضہ علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ایک درجن سے زائد چینی کمپنیاں اب ڈونیٹسک اور لوہانسک میں سرگرم ہیں۔

ان کی سرگرمیوں میں کان کنی، ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر، مالی خدمات اور صنعتی آلات کی فراہمی شامل ہے۔

رپورٹس کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں چینی ساختہ کمیونیکیشن ریلے اسٹیشن بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ مقامی نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ سے متعلق پابندیوں کے بعد مغربی کمپنیوں کے انخلا کے سبب مقامی صنعتیں اب بڑی حد تک چینی درآمدات پر انحصار کر رہی ہیں۔

فعال کوئلہ کانیں اور صنعتی ادارے اب زیادہ تر چین اور روس کے ساتھ کاروباری تعلقات قائم کر چکے ہیں کیونکہ مقبوضہ علاقے یوکرین کے باقی حصوں سے معاشی طور پر مزید الگ ہوتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مقامی معیشت چینی کرنسی یوآن پر بھی زیادہ انحصار کرنے لگی ہے جبکہ کاروباری ادارے چینی ادائیگی کے نظام اور بینکاری خدمات استعمال کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے بھی ان علاقوں کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق کوئلہ، اناج اور خوراکی مصنوعات روسی کنٹرول والے کاروباری نیٹ ورکس کے ذریعے ایران بھیجی جا رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ماسکو مقبوضہ علاقوں اور چین و ایران جیسے ممالک کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دے رہا ہے تاکہ مغربی پابندیوں کو بائی پاس کیا جا سکے اور جنگ زدہ علاقوں میں معاشی سرگرمی برقرار رکھی جا سکے۔

اگرچہ چین سرکاری طور پر یوکرین کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے، لیکن جنگ کے دوران اس نے روس کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہیں۔

چینی کمپنیاں روسی کنٹرول والے علاقوں میں استعمال ہونے والی صنعتی ٹیکنالوجی اور آلات کی بڑی سپلائر بھی بن چکی ہیں۔

یوکرینی حکام نے کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن پر روس کی جنگی معیشت کی مدد کا الزام ہے۔

یوکرین مسلسل عالمی شراکت داروں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں سرگرم کمپنیوں پر مزید دباؤ ڈالا جائے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ چین اور ایران کے ساتھ مقبوضہ یوکرینی علاقوں کا بڑھتا ہوا معاشی انضمام مستقبل کی سفارتی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے اور ان علاقوں پر روسی کنٹرول کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·