Cuba کو شدید معاشی اور انسانی بحران کے دوران China کی جانب سے چاول کی پہلی بڑی امدادی کھیپ موصول ہوگئی ہے۔
کیوبا کے صدر Miguel Diaz-Canel نے تصدیق کی کہ 15 ہزار ٹن چاول کی پہلی کھیپ ہوانا کی بندرگاہ پر پہنچ چکی ہے۔ یہ امداد مجموعی طور پر تقریباً 60 ہزار ٹن چاول کی متوقع فراہمی کا حصہ ہے۔
صدر نے مشکل حالات میں چین کی حمایت اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔
کیوبا اس وقت ایندھن کی شدید قلت، خوراک کی کمی اور ملک گیر بجلی کی بندش جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ کئی علاقوں میں ٹرانسپورٹ، اسپتالوں اور دیگر بنیادی خدمات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید خراب ہوگئی جب امریکی صدر Donald Trump کی انتظامیہ نے رواں سال کیوبا پر پابندیاں مزید سخت کر دیں۔
کیوبا کے حکام کے مطابق تیل کی فراہمی محدود ہونے کے باعث ملک میں ایندھن کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ کیوبا اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں چین کیوبا کا ایک اہم بین الاقوامی اتحادی بن کر سامنے آیا ہے۔ خوراکی امداد کے ساتھ ساتھ چین نے کیوبا کے توانائی نظام کی بہتری کے لیے سولر پینلز بھی فراہم کیے ہیں۔
کیوبا کی حکومت نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملک کو معاشی اور سیاسی طور پر کمزور کرنے کے لیے “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ٹرمپ مسلسل کیوبا کی کمیونسٹ حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں اور مزید سخت اقدامات کے اشارے بھی دے چکے ہیں۔
نئی پابندیوں اور سیاسی تنازعات کے باعث واشنگٹن اور ہوانا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
اس کے باوجود ڈیاز کینیل نے کہا کہ کیوبا چین اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط بناتا رہے گا۔