مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسے ہندو دیوی واگ دیوی کے مندر کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد بھارت میں مذہبی مقامات کے تنازعات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
دھار کے 78 سالہ محمد رفیق کئی دہائیوں تک اس مسجد میں مؤذن کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ان کے خاندان کی یہ روایت بھارت کی آزادی سے بھی پہلے سے جاری تھی۔
تاہم تازہ عدالتی فیصلے کے بعد دھار کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اب انہیں بھوج شالا کمپلیکس میں واقع اس مقام تک رسائی حاصل نہیں رہی۔
عدالت کا فیصلہ ان درخواستوں کے بعد سامنے آیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسجد کی تعمیر سے قبل یہاں ہندو مندر موجود تھا۔
فیصلے کے بعد ہندو عقیدت مند زعفرانی جھنڈے اٹھائے مقام پر پہنچے اور سخت پولیس سکیورٹی کے درمیان مذہبی رسومات ادا کیں۔
بھوج شالا-کمال مولا کمپلیکس کئی دہائیوں سے تنازع کا مرکز رہا ہے۔
2003 کے ایک انتظام کے تحت ہندوؤں کو منگل کے روز عبادت کی اجازت تھی جبکہ مسلمان جمعہ کے دن نماز ادا کرتے تھے۔
اب عدالت نے سرکاری طور پر اس مقام کو دیوی واگ دیوی کا مندر قرار دے دیا ہے۔
مسلم تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گی۔
تاریخ اور عقیدے پر نئی بحث
عدالت کے فیصلے میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) کی سروے رپورٹ کو اہم بنیاد بنایا گیا۔
ناقدین نے تاہم تاریخی شواہد کی تشریح پر سوال اٹھاتے ہوئے حکام پر مذہبی تقسیم کو فروغ دینے کا الزام لگایا ہے۔
1935 کی ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ چونکہ یہ عمارت مسجد کے طور پر تسلیم شدہ ہے اس لیے یہاں مسلمانوں کی نماز جاری رہنی چاہیے۔
تاہم عدالت نے کہا کہ موجودہ قانونی نکات نوآبادیاتی دور کے ریکارڈز پر فوقیت رکھتے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد بھارت کے Places of Worship Act 1991 پر بھی نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جس کا مقصد 1947 میں موجود مذہبی حیثیت کو برقرار رکھنا تھا۔
اپوزیشن رہنماؤں اور مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مساجد سے متعلق بار بار کے دعوے اقلیتوں میں خوف اور غیر یقینی پیدا کر رہے ہیں۔
بابری مسجد تنازع کی بازگشت
اس تنازع کا موازنہ ایودھیا کی بابری مسجد کیس سے کیا جا رہا ہے، جہاں طویل قانونی جنگ کے بعد سپریم کورٹ نے زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے دے دی تھی۔
اس کے بعد وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ سمیت دیگر تاریخی اسلامی مقامات پر بھی اسی نوعیت کے دعوے سامنے آ چکے ہیں۔
دھار فیصلے کے حامی اسے “ہندو ورثے کی بحالی” قرار دے رہے ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق یہ ہندوتوا سیاست سے جڑی ایک وسیع تر نظریاتی مہم کا حصہ ہے۔
مقامی ہندو تنظیموں نے فیصلے کا جشن مناتے ہوئے اسے “ہندو تہذیب کی فتح” قرار دیا جبکہ مسلم باشندوں نے افسوس اور مستقبل سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔
محمد رفیق جیسے لوگوں کے لیے یہ فیصلہ صرف ایک قانونی شکست نہیں بلکہ ذاتی صدمہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا، “کچھ عرصہ پہلے تک یہ مسجد ہماری زندگی کا حصہ تھی، لیکن اب سب کچھ بدل چکا ہے۔”