ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی نے عالمی تیل تجارت کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال میں برازیل ایشیائی ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، کے لیے ایک اہم متبادل تیل سپلائر کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتے خطرات اور شپنگ رکاوٹوں کے باعث ایشیائی ممالک اب ایسے ذرائع تلاش کر رہے ہیں جو سیاسی اور عسکری تنازعات سے کم متاثر ہوں۔ اسی وجہ سے برازیلی خام تیل کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چین نے حالیہ مہینوں میں برازیل سے تیل کی درآمدات میں بڑی بڑھوتری کی ہے جبکہ بھارت نے بھی اپنی بڑھتی ہوئی ایندھن ضروریات پوری کرنے کے لیے برازیلی تیل خریدنا شروع کر دیا ہے۔
برازیل پہلے ہی دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے “میڈیم سویٹ” خام تیل کو ایشیائی ریفائنریوں کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے ڈیزل اور جیٹ فیول کی تیاری آسان ہوتی ہے۔
برازیل کی سرکاری کمپنی پیٹروبراس نے بھی اپنی برآمدات کا رخ ایشیا کی جانب موڑ دیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ برازیل جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی ممالک کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اگرچہ ماہرین کا کہنا ہے کہ برازیل مکمل طور پر مشرق وسطیٰ کے تیل کا متبادل نہیں بن سکتا، لیکن موجودہ بحران میں اس کی اہمیت نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
طویل سمندری فاصلہ اور زیادہ شپنگ اخراجات اب بھی بڑے چیلنجز ہیں، تاہم عالمی توانائی منڈی میں برازیل کا کردار مستقبل میں مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔