تازہ خبریں طرز زندگی
اسپیس ایکس آئی پی او نے وال اسٹریٹ میں بڑی ہلچل مچا دی

SpaceX اپنی ابتدائی عوامی شیئر پیشکش یعنی آئی پی او کی تیاری کر رہی ہے، جسے جدید مالیاتی تاریخ کے سب سے بڑے اسٹاک مارکیٹ ڈیبیو میں شمار کیا جا رہا ہے۔

یہ کمپنی 2002 میں Elon Musk نے قائم کی تھی اور آج دنیا کی نمایاں خلائی اور راکٹ ساز کمپنیوں میں شامل ہے۔

اسپیس ایکس اپنے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹس، سیٹلائٹ لانچنگ اور خلائی مشنز کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق کمپنی “SPCX” کے نام سے نیسڈیک اسٹاک ایکسچینج میں درج ہوگی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ آئی پی او تاریخ کا سب سے بڑا عوامی شیئر اجرا بن سکتا ہے، جس کے ذریعے کمپنی 80 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسپیس ایکس نے ناسا کے ساتھ کئی خلائی مشنز پر کام کیا ہے اور مریخ پر انسانی بستی قائم کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

کمپنی اسٹارلنک اور xAI کے ذریعے انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔

آئی پی او وہ عمل ہے جس میں کوئی نجی کمپنی پہلی بار اپنے شیئرز عوام کے لیے جاری کرتی ہے تاکہ سرمایہ کار اس میں حصہ خرید سکیں۔

آئی پی او کے بعد دنیا بھر کے سرمایہ کار اسپیس ایکس کے شیئرز خرید اور فروخت کر سکیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سرمایہ کاری کی دنیا بلکہ نجی خلائی صنعت کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

کمپنی کی مالیاتی رپورٹ کے مطابق اسپیس ایکس نے 2025 میں 18.6 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی، تاہم اسے بھاری سرمایہ کاری اور xAI کے حصول کی وجہ سے نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

رپورٹ میں ایلون مسک کے اس خواب کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کے تحت انسانوں کو کئی سیاروں پر آباد کرنے اور مریخ پر خود کفیل شہر تعمیر کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔

آئی پی او کے بعد بھی مسک کمپنی پر مضبوط کنٹرول برقرار رکھیں گے کیونکہ انہیں خصوصی ووٹنگ اختیارات حاصل ہوں گے۔

News Image

ارجنٹینا کیمپ سے پہلے میسی ہیمسٹرنگ مسئلے کا شکار

  • انٹر میامی نے تصدیق کی ہے کہ لیونل میسی بائیں ہیمسٹرنگ کی تھکن اور دباؤ کا شکار ہیں۔
BY Saba Parveen ·