برطانیہ نے روسی جیٹ فیول اور ڈیزل کی ان درآمدات پر پابندیاں نرم کر دی ہیں جو تیسرے ممالک میں ریفائن کیے گئے روسی خام تیل سے تیار ہوتی ہیں، جبکہ ایران تنازع اور آبنائے ہرمز میں جاری بحران کے باعث عالمی ایندھن قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
بدھ کے روز نافذ ہونے والے نئے تجارتی لائسنس کے تحت برطانیہ اب بھارت اور ترکیہ جیسے ممالک میں ریفائن کیے گئے روسی خام تیل کی درآمد کی اجازت دے گا۔ حکام کے مطابق یہ لائسنس “غیر معینہ مدت” کے لیے نافذ کیا گیا ہے تاہم اس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا۔
برطانوی حکومت نے بعض روسی توانائی تنصیبات سے منسلک مائع قدرتی گیس (LNG) پر عائد پابندیوں میں بھی عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث عالمی توانائی منڈیاں شدید عدم استحکام کا شکار ہیں۔
2022 میں یوکرین جنگ کے بعد کئی مغربی ممالک نے روسی تیل برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں، جن کے تحت ہزاروں افراد، کمپنیوں اور توانائی سے متعلق اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
برطانوی حکام نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوری ایندھن ضروریات پوری کرنے کے لیے محدود اور عارضی نوعیت کا قدم ہے۔
تاہم اپوزیشن رہنماؤں نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یوکرین جنگ کے دوران ماسکو پر بین الاقوامی دباؤ کمزور پڑ سکتا ہے۔
اس کے باوجود برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ روس کے خلاف اس کا پابندیوں کا نظام دنیا کے سخت ترین اقدامات میں شامل ہے اور یوکرین کے لیے حمایت بدستور جاری رہے گی۔