کواڈ اتحاد، جسے Quadrilateral Security Dialogue بھی کہا جاتا ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکہ، بھارت، جاپان اور آسٹریلیا پر مشتمل یہ اتحاد ابتدا میں ایشیا پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔
تاہم اب بدلتی عالمی صورتحال کے باعث اس اتحاد کی افادیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران امریکہ نے اپنی توجہ ایشیا سے ہٹا کر مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کی طرف منتقل کر دی ہے۔
اسی دوران ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان سفارتی روابط میں اضافہ ہوا، جس سے کواڈ ممالک میں بے چینی پیدا ہوئی۔ نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ اجلاس میں بھی رکن ممالک کے درمیان تناؤ واضح دکھائی دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اجلاس دراصل اتحاد کو فعال اور متحد ظاہر کرنے کی کوشش تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کواڈ کی سب سے بڑی کمزوری اس کا غیر رسمی ڈھانچہ ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی مشترکہ دفاعی معاہدہ ہے، نہ مستقل سیکریٹریٹ اور نہ ہی فوجی ذمہ داریوں کا واضح نظام۔
جاپان نے حالیہ مہینوں میں اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے جبکہ آسٹریلیا اور برطانیہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت اب بھی اپنی اسٹریٹجک خودمختاری کی پالیسی پر قائم ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کواڈ کو مستقبل میں مؤثر رہنا ہے تو اسے بدلتی عالمی سیاست کے مطابق اپنی حکمت عملی اور مقصد کو دوبارہ واضح کرنا ہوگا۔