سنگاپور کی معیشت نے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں توقعات سے زیادہ ترقی ریکارڈ کی ہے، جس کی بڑی وجہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے متعلق عالمی طلب میں اضافہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ہوا، جو ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ ترقی خاص طور پر مینوفیکچرنگ، تھوک تجارت، مالیاتی خدمات اور انشورنس کے شعبوں میں مضبوط کارکردگی کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
حکام کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی سے متعلق بڑھتی ہوئی طلب نے الیکٹرانکس اور پریسیژن انجینئرنگ کی صنعتوں کو نمایاں فائدہ پہنچایا۔
سنگاپور عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر چپس اور ان سے متعلق آلات کی تیاری کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
اس کے باوجود حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
توانائی اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی عالمی منڈی کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی ہیں۔
حکومت نے 2026 کے لیے معاشی ترقی کا ہدف 2 سے 4 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے، تاہم بیرونی خطرات کے حوالے سے احتیاط برتنے پر زور دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اے آئی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ سنگاپور کی معیشت کو مزید سہارا دے سکتا ہے، لیکن عالمی منڈی پر انحصار کے باعث ملک بیرونی بحرانوں سے متاثر بھی ہو سکتا ہے۔