Marco Rubio نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا “دوسرا راستہ” اختیار کر سکتا ہے۔
نئی دہلی کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں متبادل اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک “مضبوط معاہدہ” زیر غور ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump نے حالیہ دنوں میں فوری معاہدے کی توقعات کو کم قرار دیا تھا۔
اگرچہ اپریل سے جنگ بندی جاری ہے، لیکن ایران اب بھی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی جاری رکھی ہوئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ حتمی معاہدہ طے پانے تک پابندیاں برقرار رہیں گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان Esmaeil Baghaei نے کہا کہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن فوری معاہدہ قریب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے وعدوں کی پاسداری کی کوئی ضمانت موجود نہیں۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو ختم کرنے اور اس کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔
پاکستان اور چین سمیت کئی علاقائی ممالک بھی ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی حمایت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سفارتی پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اب بھی کئی اہم اختلافات باقی ہیں۔