عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے جمہوریہ کانگو (DRC) اور یوگنڈا میں ایبولا کی بُنڈی بُگیو قسم کے تازہ پھیلاؤ کو “بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت ایمرجنسی” قرار دے دیا ہے کیونکہ وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
صحت حکام کے مطابق کانگو میں 500 سے زائد مشتبہ کیسز میں کم از کم 131 اموات ہو چکی ہیں۔
یوگنڈا میں بھی وائرس سے متاثرہ افراد اور کم از کم ایک ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
وبا کا مرکز کانگو کے شمال مشرقی صوبے ایتوری میں ہے جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحدوں کے قریب واقع ہے۔
یہ علاقہ کان کنی اور تجارت کی وجہ سے سرحد پار آمد و رفت کے لیے جانا جاتا ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بُنڈی بُگیو قسم خاص طور پر خطرناک ہے کیونکہ اس کے خلاف اس وقت کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔
اس قسم سے جڑی گزشتہ وباؤں میں ہلاکتوں کی شرح 30 سے 50 فیصد تک ریکارڈ کی گئی تھی۔
طبی ماہرین کے مطابق مسلح تنازعات، کمزور طبی نظام، بیماری کی دیر سے شناخت اور متاثرہ علاقوں میں لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
ایبولا کی زائیر قسم کے برعکس، جس نے 2014 سے 2016 کے دوران مغربی افریقہ میں تباہ کن وبا پھیلائی تھی اور جس کے لیے ویکسین موجود ہے، بُنڈی بُگیو قسم اب بھی موجودہ طبی سہولیات سے بڑی حد تک غیر محفوظ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ویکسین کی تیاری ممکن ہے کیونکہ محققین پہلے سے موجود ایبولا ویکسین ٹیکنالوجیز، جن میں وائرل ویکٹر اور mRNA پلیٹ فارمز شامل ہیں، سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
تاہم ایک محفوظ ویکسین تیار کرنے، اس کی آزمائش اور تقسیم میں اب بھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔
صحت کے محققین نے زور دیا کہ آج دنیا وباؤں سے نمٹنے کے لیے ماضی کے مقابلے میں زیادہ تیار ہے، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ سرمایہ کاری اور عالمی ہنگامی ردعمل اب بھی کووڈ-19 وبا کے دوران دیکھے گئے اقدامات سے کہیں کم ہے۔
متاثرہ ممالک نے ہنگامی اقدامات سخت کر دیے ہیں جن میں قرنطینہ، سرحدی اسکریننگ اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہیں۔
کئی ممالک نے متاثرہ علاقوں سے آنے والے افراد پر سفری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔
طبی سامان، بشمول فرنٹ لائن طبی عملے کے لیے حفاظتی آلات، متاثرہ علاقوں میں پہنچائے جا رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی شراکت داروں کی جانب سے تجرباتی ویکسینز بھی آزمائش اور ہنگامی استعمال کے لیے متوقع ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وبا اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ مستقبل میں مختلف اقسام کے ایبولا وائرس سے تحفظ فراہم کرنے والی وسیع تر ویکسینز کی فوری ضرورت ہے تاکہ آئندہ وبائیں مزید بے قابو نہ ہوں۔