پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران لوک سبھا نے *پبلک ایگزامینیشنز (غیر قانونی ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل 2026* کو صوتی ووٹنگ کے ذریعے منظور کر لیا۔ اس بل کا مقصد مقابلہ جاتی امتحانات میں پیپر لیک، نقل اور دیگر بے ضابطگیوں پر سخت روک لگانا ہے۔ لوک سبھا سے منظوری کے بعد اب یہ بل مزید قانون سازی کے لیے راجیہ سبھا بھیجا جائے گا۔
بل پر بحث کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سخت نوک جھونک دیکھنے کو ملی۔ قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج، امتحانی نظام اور حکومت کے اقدامات پر اپنی رائے پیش کی۔ ان کی بعض باتوں پر حکمراں جماعت کے ارکان نے اعتراض کیا، جس کے بعد ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا۔
کئی مرتبہ کارروائی متاثر ہوئی۔ بعد میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ارکان سے پرسکون رہنے کی اپیل کی اور راہل گاندھی سے اپنی تقریر جاری رکھنے کی درخواست کی۔ تقریر دوبارہ شروع ہونے کے بعد راہل گاندھی کے ایک اور بیان پر دوبارہ ہنگامہ شروع ہو گیا اور حکمراں جماعت نے ان سے معافی کا مطالبہ کیا۔
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل ملک کے لاکھوں طلبہ کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن کو اس اہم موضوع پر سیاست کرنے کے بجائے تعمیری تجاویز دینی چاہئیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم 2024 کے قانون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے لائی گئی ہے تاکہ پیپر لیک مافیا، ڈیجیٹل دھوکہ دہی اور منظم امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی ممکن ہو سکے۔
حکومت کے مطابق اس قانون سے امتحانی نظام میں شفافیت بڑھے گی، مستحق امیدواروں کو انصاف ملے گا اور نوجوانوں کا اعتماد مضبوط ہوگا۔ دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ قانون کے ساتھ ساتھ اس پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
اب یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ اگر وہاں بھی منظور ہو جاتا ہے تو آئینی عمل مکمل ہونے کے بعد یہ قانون نافذ ہو سکے گا۔




.jpeg)

.jpg)
.jpg)





.webp)


